سعودی عرب نے آج اتوار سے تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اپنی اسٹاک مارکیٹ کھول دی ہے۔
یہ اقدام کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کے اُس فیصلے کے بعد عمل میں آیا ہے جو گزشتہ ماہ کے آغاز میں جاری کیا گیا تھا۔
اس قدم کا مقصد عالمی سرمائے کے لیے مارکیٹ کے کھلے پن کو مزید مضبوط بنانا ہے تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں ریاض اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کے حجم کے حوالے سے محتاط امیدوں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
الشرق بلومبرگ کے مطابق نئی ترامیم کے تحت ’اہل غیر ملکی سرمایہ کار‘ کے تصور کو ختم کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کار اب کسی پیشگی اہلیت کی شرط کے بغیر براہِ راست مارکیٹ میں داخل ہو سکیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ سویپ معاہدوں کے لیے موجود ضابطہ جاتی فریم ورک بھی منسوخ کر دیا گیا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو صرف معاشی فوائد تک محدود رکھنے کے بجائے درج شدہ حصص میں براہِ راست سرمایہ کاری کی اجازت دے دی گئی ہے۔
یہ تبدیلی آئندہ بڑے قدم سے قبل سامنے آئی ہے جس کے تحت درج شدہ کمپنیوں میں غیر ملکی ملکیت کی زیادہ سے زیادہ حد کو 100 فیصد تک بڑھانے کا امکان ہے۔
یہ اقدام سرمایہ کاری کے بہاؤ پر مزید وسیع اثر ڈال سکتا ہے، اور جے پی مورگن کے اندازوں کے مطابق اس کے نتیجے میں تقریباً 10.6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
جنوری کے دوران یومیہ اوسط تجارتی مالیت میں 45 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4.8 ارب ریال تک پہنچ گئی جبکہ دسمبر میں یہ 3.3 ارب ریال تھی۔
اسی طرح، اسی مدت کے دوران عمومی انڈیکس میں 8.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کے مطابق جب 6 جنوری 2025 کو اس فیصلے کا اعلان کیا گیا تو گزشتہ سال کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک مالیاتی مارکیٹ میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی مجموعی ملکیت 590 ارب ریال سے تجاوز کر چکی تھی۔
اتھارٹی نے توقع ظاہر کی کہ منظور شدہ ترامیم بین الاقوامی سرمایہ کاری کو مزید متوجہ کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔