اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

گولڈ کہاں تک جائے گا؟ ماہرین کیا پیش گوئی کرتے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes

دنیا بھر میں سیاسی و عسکری کشیدگی، معاشی بے یقینی اور مالیاتی نظام میں بڑھتے خطرات نے سونے کو ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی اولین ترجیح بنا دیا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران سونے کی قیمتوں میں جس طرح کی غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے، وہ حالیہ مالیاتی تاریخ میں بہت ہی کم نظر آئی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ اس زرد قیمتی دھات نے اپنی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025ء کے آغاز میں سونے کی فی اونس قیمت تقریباً 2800 ڈالر تھی، جو جنوری 2026ء تک بڑھ کر 5500 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ 

اس طرح صرف ایک سال میں سونے کی قیمت میں تقریباً سو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سرمایہ کاری کی دنیا میں انتہائی غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر صارفین پر بھی پڑا ہے۔ 

24 قیراط کے سونے کا فی گرام نرخ تقریباً 330 ریال سے بڑھ کر 660 ریال تک جا پہنچا جب کہ اس میں مقامی مارکیٹ کی مزدوری اور دیگر فروخت کے اخراجات شامل نہیں ہیں جو مختلف ممالک اور شہروں میں الگ الگ ہوتے ہیں۔

سونے کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا؟

اقتصادی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے پیچھے کئی عالمی عوامل کارفرما ہیں، جن میں سب سے اہم درج ذیل ہیں:

عالمی سیاسی اور جغرافیائی خطرات

دنیا کے مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور تنازعات نے مالی منڈیوں میں بے چینی کو جنم دیا ہے۔ 

بین الاقوامی اداروں کے مطابق ایسے حالات میں سرمایہ کار غیر محفوظ اثاثوں سے نکل کر سونے جیسے محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کا رخ کرتے ہیں۔

closeup shot of shiny gold bars and financial conc 2026 01 07 07 20 24 utc

بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (BIS) اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے تجزیے بتاتے ہیں کہ جب بھی عالمی سطح پر جغرافیائی خطرات میں اضافہ ہوتا ہے، سونے کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ 

اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سونا کسی حکومت یا کرنسی سے منسلک نہیں ہوتا۔

عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال

دنیا کی بڑی معیشتوں میں سست روی، کساد بازاری کے خدشات اور اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ نے بھی سونے کو ایک مضبوط اثاثہ بنایا ہے۔ 

عالمی اقتصادی اداروں کے مطابق 2025ء اور 2026ء میں معاشی بے یقینی کی بلند سطح نے ’دفاعی سرمایہ کاری‘ کی مانگ میں اضافہ کیا ہے، جس میں سونا سرفہرست رہا۔

عالمی مالیاتی اداروں کے تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں سونا، حصص اور بانڈز کے مقابلے میں کم نقصان اٹھانے والا اثاثہ ثابت ہوا ہے۔

an asian business woman sitting at her desk in off 2026 01 08 05 04 38 utc

ڈالر کی گراوٹ اور شرحِ سود کی توقعات

امریکی ڈالر پر مسلسل دباؤ اور مستقبل میں شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات نے بھی سونے کی قیمتوں کو بڑھنے میں مدد دی ہے۔ 

ماہرین کے مطابق جب ڈالر اور بانڈز پر حقیقی منافع کم ہوتا ہے تو سرمایہ کار سونے کی طرف مائل ہوتے ہیں، کیوں کہ یہ اگرچہ منافع نہیں دیتا لیکن اپنی قدر برقرار رکھتا ہے۔

سرمایہ کاری کی طلب میں ریکارڈ اضافہ

ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق 2025ء میں سونے کی عالمی طلب 5000 میٹرک ٹن سے تجاوز کر گئی ہے، جسے اب تک کی بلند ترین سطح قرار دیا گیا ہے۔ 

صرف سرمایہ کاری کے لیے سونے کی طلب میں پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 84 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سونے سے منسلک ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں بھی ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی ہے، جہاں ایک ہی سال میں 800 ٹن سے زائد سونا شامل کیا گیا۔

indulge in luxury exquisite jewellery collection 2026 01 08 08 17 21 utc

مرکزی بینکوں کی خریداری

دیگر سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک بھی سونے کی بڑھتی قیمتوں کے اہم محرک ثابت ہوئے ہیں۔ 

عالمی اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں مرکزی بینکوں نے تقریباً 863 ٹن سونا خریدا۔ 

اگرچہ یہ مقدار گزشتہ چند برسوں کی بلند ترین سطح سے کچھ کم ہے، لیکن پھر بھی تاریخی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینکوں کا یہ رجحان ڈالر پر انحصار کم کرنے اور مالیاتی خطرات سے بچاؤ کی ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

ورلڈ گولڈ کونسل کے ایک سرکاری سروے سے پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر کے 76 فیصد مرکزی بینک آئندہ 5 برس میں اپنے سونے کے ذخائر کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جب کہ اس کے برعکس ڈالر اور کاغذی کرنسیوں پر انحصار کی شرح کم ہو رہی ہے۔

turkish golden jewelry store in istanbul 2026 01 11 09 37 00 utc

2026ء میں توقعات

بین الاقوامی مالیاتی اور تحقیقی اداروں کا خیال ہے کہ 2026ء میں بھی سونے کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں، تاہم اضافے کی رفتار 2025ء کے مقابلے میں کچھ سست ہونے کے امکانات ہیں۔

بعض اندازوں کے مطابق 2026ء کے اختتام تک سونے کی اوسط قیمت 5200 سے 5400 ڈالر فی اونس کے درمیان رہ سکتی ہے جب کہ زیادہ پُرامید اندازوں کے مطابق قیمت 6000 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، خصوصاً کسی بھی ممکنہ عالمی کشیدگی پیدا ہونے کی صورت میں۔

ماہرین کی جانب سے اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اتنے تیز رفتار اضافے کے بعد عارضی گراوٹ یا قیمتوں میں وقتی کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے، جو کہ اس مارکیٹ کے عمل کا حصہ ہے۔