ایران، امریکہ جنگ کے دوران تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے عالمی توانائی منڈیوں میں بحرانی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔
آبنائے ہرمز (خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی بحری گزرگاہ) نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تیل کی ترسیل کا سب سے حساس اور اہم راستہ سمجھی جاتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی عسکری جھڑپ یا ناکہ بندی تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑے اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ اہم بحری گزرگاہ، جس سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی مصنوعات گزرتی ہیں، ایرانی دھمکیوں کے بعد عملی طور پر توانائی بردار جہازوں کے لیے نیم بند علاقے میں تبدیل ہو گئی ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو مہلک نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کے باعث بحری آمد و رفت کئی برسوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
حالیہ پیش رفت صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے اور جنگی خطرات کی انشورنس واپس لینے جیسے اقدامات نے خطرات میں شدید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بعض جہاز متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں یا اپنی سفری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز ایران اور سلطنتِ عمان کے درمیان واقع ہے۔
یہ بحری گزر گاہ خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
اس کی چوڑائی تقریباً 33 سے 50 کلومیٹر جبکہ گہرائی لگ بھگ 60 میٹر ہے۔
روزانہ 25 سے 35 تیل بردار بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو اس کی عالمی سطح پر اہمیت کو بڑھاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے ایشیا کو جانے والی خام تیل کی 85 فیصد برآمدات منتقل ہوتی ہیں جبکہ عالمی سطح پر بحری راستوں سے منتقل ہونے والے تیل کا 20 سے 30 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
خلیجی ممالک کا آبنائے ہرمز پر انحصار
دستیاب معلومات کے مطابق:
• سعودی عرب اپنی 65 سے 70 فیصد تیل برآمدات
• عراق تقریباً 95 فیصد
• متحدہ عرب امارات 90 فیصد
• جبکہ ایران، کویت اور قطر کا تقریباً تمام تیل
آبنائے ہرمز ہی کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
اس کے علاوہ چین، جاپان، انڈیا اور جنوبی کوریا بھی اس راستے سے تیل درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔
توانائی کی معلومات کے امریکی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 2022ء اور 2023ء میں روزانہ 20 سے 21 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرا جبکہ 2024ء میں بھی کم و بیش اتنی ہی مقدار خام تیل اور کنڈینسیٹس کی صورت میں منتقل ہوئی۔
آسان الفاظ میں سمجھنے کے لیے تیل کی عالمی کھپت کو اگر 102 سے 103 ملین بیرل یومیہ مانا جائے تو اس کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور قانونی حیثیت
بین الاقوامی قوانین کے تحت آبنائے ہرمز کھلے سمندروں کا حصہ ہے، جہاں سے تمام بحری جہازوں کو آزادانہ گزرنے کا حق حاصل ہے تاہم اس کے لیے شرط ہے کہ وہ جہاز ساحلی ممالک کی سلامتی یا نظم و نسق کو نقصان نہ پہنچائیں۔
جغرافیائی لحاظ سے دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز کئی جزیروں کے قریب واقع ہے، جن میں طنب الکبریٰ، طنب الصغریٰ اور ابو موسیٰ شامل ہیں۔
یہ دونوں جزائر ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان متنازع ہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے زیرِ کنٹرول جزائر ہرمز، لارک، قشم اور ہنیام بھی اسی خطے میں واقع ہیں جب کہ سلطنتِ عمان کے زیرِ انتظام مسندم اور اس سے ملحق جزائر کا بھی اس راستے پر اہم کردار ہے۔
آبنائے ہرمز بند ہونے کی صورت میں متبادل راستے
امریکا کے ساتھ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز بند کرنے کی ایرانی دھمکیوں کے تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک کے پاس تیل برآمد کرنے کے کون سے محفوظ متبادل راستے موجود ہیں۔
سعودی عرب کا متبادل راستہ
سعودی عرب کے پاس آبنائے ہرمز بند ہونے کی صورت میں تیل برآمد کرنے کا ایک اہم راستہ موجود ہے، جسے بقیق، ینبع پائپ لائن یا مشرقی، مغربی پائپ لائن (پیٹرولاين) کہا جاتا ہے۔
یہ لائن مشرقی سعودی عرب کے بقيق آئل فیلڈ کو بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ينبع بندرگاہ سے جوڑتی ہے۔
مشرقی اور مغربی سعودی عرب کو ملانے والی تقریباً 1200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن مملکت کو اپنا تیل آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر براہِ راست عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سوميد پائپ لائن: مصر کا اسٹریٹیجک کردار
سوميد (SUMED) پائپ لائن مصر میں واقع تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جو ’’عين السخنة‘‘ (خلیج سوئز) سے سيدي كرير (اسکندریہ، بحیرۂ روم) تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ لائن خلیج سے بحیرۂ روم تک تیل منتقل کرنے میں نہرِ سوئز کا اہم متبادل سمجھی جاتی ہے۔
اس پائپ لائن کی ملکیت عرب پٹرولیم پائپ لائنز کمپنی کے پاس ہے، جس میں:
• 50 فیصد حصہ مصر کی جنرل پٹرولیم کارپوریشن
• 15 فیصد سعودی آرامکو
• 15 فیصد انٹرنیشنل پیٹرولیم انویسٹمنٹ کمپنی
• 15 فیصد کویت کی جنرل انویسٹمنٹ اتھارٹی
• جب کہ 5 فیصد قطر انرجی کا ہے۔
یہ لائن خاص طور پر باب المندب میں کسی ممکنہ بحران کی صورت میں جیو پولیٹیکل خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور یہی اس کی اسٹریٹیجک اہمیت کی بنیاد ہے۔
حبشان۔الفجیرہ تیل پائپ لائن: امارات کا محفوظ راستہ
متحدہ عرب امارات نے بھی آبنائے ہرمز کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حبشان، الفجیرہ آئل پائپ لائن بچھا رکھی ہے جو ابوظبی کے حبشان فیلڈ سے شروع ہو کر سويحان کے راستے الفجیرہ بندرگاہ تک جاتی ہے، جو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب پر واقع ہے۔
اس پائپ لائن کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ اماراتی تیل کو مکمل طور پر آبنائے ہرمز سے بچاتے ہوئے عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ممکنہ بحران ،متبادل راستے اور نتائج
ماہرین کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن بترولاين، سوميد اور حبشان، الفجیرہ جیسے متبادل راستے کسی بڑے بحران کی صورت میں تیل کی ترسیل کو مکمل طور پر بند ہونے سے بچا سکتے ہیں، تاہم کسی بھی بڑی عسکری کشیدگی کی صورت میں عالمی تیل منڈی شدید دباؤ اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا سامنا کر سکتی ہے۔