عبد الرحمن الراشد
سینئر سعودی تجزیہ نگار۔ الشرق الاوسط
ہمارے خطے کی زمین پہلے ہی پرانی بارودی سرنگوں سے بھری ہوئی ہے، جو غیر ارادی دھماکوں کے امکانات رکھتی ہیں۔
اس میں سعودی، اماراتی اختلافات شامل نہیں، جو جنوب یمن میں موجود ہیں اور بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں۔
خطرہ زیادہ اس بات کا ہے کہ امریکی، ایرانی جنگ کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور اس کے اثرات مخصوص طور پر خلیجی ممالک پر پڑیں گے، جو اس منظرنامے میں صف اول میں بیٹھے ہیں۔
مزید پڑھیں
یاد رہے کہ خلیجی تعاون کونسل (GCC) چار دہائیوں سے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے قائم کی گئی، مگر وقت کے ساتھ اس کے دائرہ کار نے دفاعی تعاون سے آگے بڑھ کر روزمرہ امور تک پھیلا دیا۔
یہ خطے کا واحد کامیاب علاقائی اتحاد ہے، حالانکہ سیاسی اختلافات موجود ہیں۔
ایک محقق نے کہا کہ یہ کونسل ’ایرانی نظام سے نفرت‘ پر بنی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا آغاز ایران کے خمینی دور کے خطرات کے پیش نظر ہوا۔ خطے کے 6 ممالک کو اپنی داخلی اور علاقائی رابطوں کو منظم کرنے کی ضرورت تھی، چاہے خارجی خطرہ نہ بھی ہوتا۔
تاریخی طور پر ایران کے ساتھ تعلقات ہمیشہ منفی نہیں تھے، شاہی ایران کی حکومت نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مثبت تعلقات رکھے۔
حالات بدل گئے جب 1979 میں اسلامی انقلاب آیا اور ایران نے خطے میں انقلابات پھیلانے کا منصوبہ بنایا۔
اس وقت سعودی عرب نے دوستانہ روابط قائم کرنے کی کوشش کی، حتیٰ کہ تیل بھی بھیجا مگر خمینی نے واضح کیا کہ وہ خطے کے نظاموں کو بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
آج ایران ایک وجودی خطرے کا سامنا کر رہا ہے:
یا تو وہ 1979 کے انقلابی منصوبے کو ترک کرے یا پھر ایک تباہ کن تصادم کا سامنا کرے۔
خلیجی دار الحکومتیں سمجھتی ہیں کہ وہ ایران کے نظام میں تبدیلی یا حمایت نہیں کر سکتیں لیکن جنگ کے اثرات ان کے لیے شدید خطرناک ہوں گے۔
اگر جنگ ہوئی تو ممکنہ نتائج مختلف ہیں:
نظام کا انہدام، انقلاب، یا پھر نظام کا مضبوطی سے قائم رہنا۔
خطرات بہت زیادہ ہیں اور عراق پر امریکی حملے سے بہت زیادہ ہیں۔
اگر تہران کا نظام ٹوٹا تو سب پر اثر پڑے گا اور اگر مضبوط رہا تو دوبارہ طاقتور بن کر ابھرے گا۔
تمام خلیجی حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ براہِ راست مداخلت نہیں کریں گی اور یہ امریکی اتحادی کے لیے بھی قابل قبول ہے کیونکہ امریکہ کی اپنی فوجی موجودگی اور معاہدات موجود ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ محاذ کو محدود رکھا جائے۔ ایران کی جانب سے بعض اوقات خلیج میں تنصیبات پر حملے کے اشارے دیے گئے ہیں، جو ممکن ہے مگر فی الحال غیر متوقع ہے۔