سعودی عرب کے علاقے الباحہ میں ماضی میں حرارت کا واحد ذریعہ سمجھے جانے والے المِلّة کا سردیوں کی ضرورت سے لے کر جدید دور کی سجاوٹ تک کا سفر بہت دلچسپ ہے۔
مملکت کے پہاڑی علاقے الباحہ میں گھریلو تعمیرات ہمیشہ ماحول، موسم اور مقامی سماجی روایات سے ہم آہنگ رہی ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی سے پہلے یہاں کے گھروں کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جاتا تھا کہ وہ سردیوں کی شدت سے بچاؤ، خاندانی اجتماع اور روزمرہ ضروریات کو ایک ہی جگہ پورا کر سکیں۔
انہی گھریلو خصوصیات میں ایک نمایاں عنصر ’’المِلّة‘‘ بھی تھی، جو آج بھی اس علاقے کی ثقافتی شناخت سمجھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق قدیم دور میں الباحہ کے گھروں میں سردیوں کے موسم میں المِلّة واحد ذریعۂ حرارت ہوا کرتی تھی۔
یہی جگہ خاندان کے افراد کے اکٹھا ہونے، روایتی کھانے تیار کرنے اور قہوہ بنانے کا مرکز بھی ہوتی تھی۔
اس کے گرد بیٹھ کر سرد راتیں گزاری جاتی تھیں اور یہ لمحات زندگی کے یادگار دن کہلاتے تھے۔
الباحہ میں قائم الاخوین میوزیم کے مالک محمد مسفر الغامدی کا کہنا ہے کہ ماضی میں گھروں میں المِلّة کے سوا کوئی دوسرا ذریعۂ حرارت موجود نہیں تھا۔
خاندان کے تمام افراد سردیوں میں اس کے گرد بیٹھتے، وہیں روایتی کھانے مثلاً خبزۃ المِلّة اور المشرق تیار کیے جاتے اور قہوہ نوشی ہوتی تھی۔
یہ ایک خالص گھریلو اور خاندانی ماحول ہوا کرتا تھا۔
الغامدی نے بتایا کہ المِلّة عام طور پر گھر کے ایک کونے میں بنائی جاتی تھی، جسے مٹی سے تیار کیا جاتا تھا۔
اس کے اطراف ایک سے ڈیڑھ میٹر تک کے ہوتے تھے اور اس کے اندر الکانون رکھا جاتا تھا جو خالص لوہے سے بنا ایک اسٹینڈ ہوتا تھا، جس پر دیگچی، ہانڈی یا کوئی اور برتن رکھ کر کھانا پکایا جاتا جبکہ نیچے لکڑیاں جلا کر آگ بھڑکائی جاتی تھی۔
المِلّة میں استعمال کی روایتی اشیا اور قہوہ کی تیاری
آگ کے اوپر الصاج استعمال کیا جاتا تھا، جو خالص لوہے کا ایک گول تختہ ہوتا تھا اور اُس پر آٹا ڈال کر روٹی تیار کی جاتی تھی جسے مقامی طور پر المشرق کہتے تھے۔ اسی طرح قہوہ بھوننے کے لیے المجرف استعمال ہوتا تھا جو ایک کھوکھلا لوہے کا برتن تھا جبکہ قہوہ پلٹنے کے لیے المحماص نامی آلہ استعمال کیا جاتا تھا۔
قہوہ بھوننے کے بعد اسے نحاس کے ہاون میں ڈالا جاتا تھا۔
پھر اسے الودی یا المهراس کے ذریعے پیسا جاتا اور یوں تمام مراحل کے بعد قہوہ مکمل تیار ہوکر سردیوں کی محفلوں کا لازمی حصہ بنتا تھا۔
آج کا المِلّة : قدیم روایت اور جدید سجاوٹ کا امتزاج
محمد مسفر الغامدی کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ المِلّة کا عملی استعمال کم ہو گیا مگر اس کی ثقافتی اور جمالیاتی اہمیت برقرار رہی۔
آج الباحہ کے جدید گھروں میں المِلّة کو سجاوٹ اور ڈیزائن کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جو کسی حد تک جدید فائر پلیس کی طرح نظر آتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ المِلّة اب صرف سردی سے بچاؤ کے لیے نہیں بلکہ گھروں میں روایتی شناخت، تاریخی ورثے اور جمالیاتی حسن کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جو الباحہ کے سماجی و ثقافتی ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔