سعودی عرب کے بیشتر سی ای اوز (چیف ایگزیکٹو آفیسرز) نے وژن 2030ء کے تحت آئندہ برسوں کے لیے ملکی معیشت پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
سبق ویب سائٹ میں شائع ہونے والے ایک عالمی سروے کے مطابق مملکت کے بیشتر سی ای اوز (چیف ایگزیکٹو آفیسرز) کو یقین ہے کہ وژن 2030ء کے تحت تیل سے ہٹ کر دیگر شعبوں کی ترقی اور بڑھتی سرمایہ کاری کے نتیجے میں سعودی معیشت تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھے گی۔
مزید پڑھیں
یہ نتائج پی ڈبلیو سی (PwC) کے 29ویں عالمی سی ای او سروے میں سامنے آئے ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے 94 فیصد کاروباری سربراہان (سی ای اوز) مقامی معیشت کی ترقی کے حوالے سے پُراعتماد ہیں۔
سروے کے یہ نتائج گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتے ہیں۔
سروے سے معلوم ہوا ہے سعودی عرب میں بیشتر کاروباری سربراہان 2026ء کے آغاز کے ساتھ ہی ملکی معیشت کے مستقبل سے متعلق واضح سمت اور مضبوط اعتماد رکھتے ہیں، جس کی بنیاد غیر تیل (نان آئل) شعبوں میں تیزی سے ہونے والی ترقی، ریکارڈ سرمایہ کاری، اصلاحات اور وژن 2030ء کے تحت جاری منصوبے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز موجود ہیں تاہم سعودی سی ای اوز قلیل مدتی احتیاط اور طویل مدتی ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں جو کہ وژن 2030ء کی کامیاب حکمت عملی کا ثبوت ہے۔
پی ڈبلیو سی کی قیادت کا مؤقف
پی ڈبلیو سی (مڈل ایسٹ) کے سعودی دفتر کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ریاض النجار کا کہنا ہے کہ مملکت کے سی ای اوز ترقی کے اگلے مرحلے میں بھرپور اعتماد اور یقین کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ترقی کے وسیع مواقع اور وژن 2030ء کے ترقیاتی ایجنڈے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کاروباری قیادت مصنوعی ذہانت، جدت اور کئی نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ ایسی مضبوط کمپنیاں قائم کی جا سکیں جو مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
آمدن میں اضافے کی توقعات
سروے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے سعودی عرب میں 71 فیصد سی ای اوز کو امید ہے کہ ان کی کمپنیوں کی آمدنی آئندہ 3 سال کے دوران بڑھے گی۔
یہ شرح عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت میں کاروباری ماحول طویل مدتی بنیادوں کے ساتھ پائیدار ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق غیر تیل (نان آئل) شعبوں میں بڑھتی سرمایہ کاری، نجی شعبوں کی توسیع اور بڑے ترقیاتی منصوبے اس اعتماد کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔
کاروبار میں جدت، مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی تیاریاں
سروے میں بتایا گیا ہے کہ کاروبار میں جدت (Innovation) سعودی کمپنیوں کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بن چکی ہے۔
تقریباً 65 فیصد سی ای اوز کے مطابق ٹیکنالوجی اور انتظامی جدت ان کی ترقیاتی منصوبہ بندی میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔
اسی طرح مصنوعی ذہانت (AI) کو بھی مستقبل کی کامیابی کے لیے کلیدی عنصر قرار دیا گیا ہے۔
سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 10 میں سے 8 سی ای اوز کا کہنا ہے کہ ان کے اداروں کا ماحول مصنوعی ذہانت کے استعمال کیلیے سازگار ہے، جس کے نتیجے میں سعودی کمپنیاں عالمی سطح پر بہتر پوزیشن میں آرہی ہیں۔
بڑے سودوں اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی
سروے کے مطابق کاروباری وسعت کا حصول (Acquisitions) سعودی کمپنیوں کی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔
مملکت کے 73 فیصد سی ای اوز آئندہ 3 برس میں ایسے بڑے سودوں کا ارادہ رکھتے ہیں، جن کی مالیت ان کی کمپنی کے مجموعی اثاثوں کے 10 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مختلف نئے شعبوں میں توسیع، مثلاً صنعت، سیاحت، انفرا اسٹرکچر اور ٹیکنالوجی سعودی معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔
افرادی قوت اور روزگار
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ سعودی عرب کے تقریباً 70 فیصد سی ای اوز کو باصلاحیت افرادی قوت برقرار رکھنے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آرہی۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال سعودی عرب میں بہتر ہوتے ورک کلچر، اصلاحات اور غیر تیل (نان آئل) شعبوں میں بڑھتے مواقع کا نتیجہ ہے۔
پی ڈبلیو سی کے اس عالمی سروے کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ سعودی عرب میں کاروباری قیادت نہ صرف موجودہ حالات سے مطمئن ہے بلکہ مستقبل کی ترقی کے لیے بھی پُرعزم اور پُراعتماد ہے۔
وژن 2030ء جدت، مصنوعی ذہانت اور سرمایہ کاری کے امتزاج کے ساتھ سعودی معیشت کو عالمی سطح پر ایک مضبوط اور پائیدار مقام دلانے کے لیے کامیابی کے سفر پر گامزن ہے۔