وزیر تعلیم یوسف البنیان نے کہا ہے کہ سعودی عرب عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل خلا کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
اس کا مقصد ٹیکنالوجیز کے صارف سے بڑھ کر AI ایپلیکیشنز کے تخلیق کار اور ڈویلیپر بننا ہے تاکہ اس کا مثبت اثر معیشت اور معاشرے پر پڑے۔
مزید پڑھیں
یہ بات انہوں نے بین الاقوامی کانفرنس برائے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیت سازی (ICAN 2026) کے افتتاح کے موقع پر کہی ہے جو آج بدھ کو کنگ سعود میں منعقد ہو رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی چیلنجز صرف ٹیکنالوجی کی دستیابی تک محدود نہیں بلکہ انسانی صلاحیت پر بھی منحصر ہیں کہ وہ اسے کس حد تک مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے اور مستقبل
کے AI کی تشکیل انسان اور ٹیکنالوجی دونوں کے ساتھ جڑی ہے۔
البنیان نے بتایا کہ کانفرنس تین اہم ستونوں پر مرکوز ہے، AI انفراسٹرکچر، مختلف عمر کے افراد کی ڈیجیٹل تیاری اور مستقبل کے لیے تیاری۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ پروگرام تعلیم، روزگار اور قومی امنگوں کو جوڑتا ہے اور صرف نظریاتی بحث تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات، معاہدوں پر دستخط اور نئے اقدامات کے آغاز تک پہنچتا ہے۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ AI کو انسان کا متبادل نہیں بلکہ پیداواریت اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے والا معاون عنصر سمجھا جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نظام ایسے ڈیزائن کیے جائیں جس میں انسان کو مکمل اختیار اور قابو حاصل ہو کیونکہ یہی پائیداری اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے ڈیٹا اور AI کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، کیونکہ یہ انسانی صلاحیتوں کو بڑھانے، تعلیمی معیار بہتر بنانے اور جدید قومی صلاحیتیں پیدا کرنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہیں جو مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے مطابق ہوں اور وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوں۔