اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

خفیہ صدقہ بہتر ہے یا علانیہ؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

علمائے کرام کے درمیان اس حوالے سے دلچسپ بحث ہے کہ خفیہ صدقہ زیادہ بہتر ہے یا علانیہ؟۔

اس بحث کی بنیاد سورۃ البقرہ کی آیت271 ہے جس کا ترجمہ ہے:

اگر اپنے صدقات علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے، تمہاری بہت سی برائیاں اس طرز عمل سے محو ہوجاتی ہیں اورجو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو بہر حال اس کی خبر ہے۔

مزید پڑھیں

علامہ قرطبیؒ نے ’الجامع لاحکام القرآن‘ میں لکھا ہے:
جمہورمفسرین کی رائے ہے کہ آیتِ مذکورہ میں نفلی صدقات کا ذکر ہے جس میں خفیہ صدقہ، علانیہ سے بہتر ہے۔

اسی طرح تمام نفلی عبادات کو چھپانا بہتر ہے کیونکہ اس سے ریا کا امکان خارج ہو جاتا ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں:

فرض زکاۃ کا اعلان کیا جائے اور نفل صدقات کو چھپایا جائے، یہ زیادہ بہتر ہے۔

علامہ سیوطی نے حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے لکھا ہے:

اللہ تعالیٰ نے خفیہ کئے جانے والے نفلی صدقے کا اجر، علانیہ کئے جانے والے نفلی صدقے کے اجر سے 70 گنا زیادہ رکھا ہے اور فرض زکاۃ کے اعلان کا اجر، خفیہ دیئے جانے والے صدقے کے اجر سے 25 گنا زیادہ ہے۔

علامہ ابن عربیؒ نے لکھا ہے:

اس میں کوئی شک نہیں کہ فرض زکاۃ کا اظہار شریعت کے دیگر تمام فرائض کے اظہار کی طرح افضل و بہتر ہے، اس کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی اس کے اظہار سے اپنا دین بچاتا ہے اور اپنے مال کو محفوظ بنالیتا ہے۔

image gen 2

آگے نفل صدقات پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

نفل صدقات کی افضلیت کا تعلق دینے والے، لینے والے اور لینے دینے کی کارروائی کے گواہوں سے ہے۔

لینے والے کے حوالے سے یہ ہے کہ اس کے لئے نفل صدقے کا اظہار افضل ہے کہ اس سے سنت کے اظہار کا ثواب اور صدقہ دینے کی قدرت کا اعلان ہے جبکہ اس کا منفی پہلو ریا، احسان جتانا اور دکھ دینے میں پوشیدہ ہے۔

لینے والے کے حوالے سے یہ ہے کہ اس کیلئے نفل صدقے کا اخفا، اظہار سے بہتر ہے کہ اظہار سے لوگوں کے سامنے اس کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ 

لینے اور دینے کی کارروائی کے گواہوں کے حوالے سے یہ ہے کہ ان کے لئے نفل صدقہ کو خفیہ رکھنا افضل ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان نفسیاتی طور پر تعریف وستائش پسند ہے، وہ بھلائی کا صلہ چاہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں انفاق کی آیات نفسِ انسانی کے اس پہلو کو مہذب کرتی ہیں نیز اسے دنیا میں ملنے والے صلے سے بلند و برتر کرتی ہیں۔

غور کیا جائے کہ قرآن مجید میں انفاق کی اکثر آیات میں خفیہ صدقے کا ذکر علانیہ سے پہلے آیا ہے، ارشاد ربانی ہے:

’(اے نبیﷺ!) میرے جو بندے ایمان لائے ہیں ان سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے چھپے اور کھلے (راہ ِخیر میں) خرچ کریں۔ (ابراہیم 31)

 ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:

’جو لوگ اپنے مال شب وروز چھپے اور کھلے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ (البقرہ 274)

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے