سعودی عرب کے معروف موٹر اسپورٹس ایونٹ کو نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ایشیا اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں شہرت حاصل ہے۔
مملکت کے شمالی علاقے حائل میں منعقد ہونے والی ’حائل ریلی‘ محض ایک مقامی یا علاقائی ایونٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر موٹر اسپورٹس کے کیلنڈر کا ایک اہم حصہ ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق 2006ء میں اپنے آغاز کے بعد سے حائل ریلی نے سعودی عرب میں ریسنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے بعد دنیا بھر کے نامور ڈرائیورز نے سعودی عرب کی جانب اپنی توجہ مبذول کی ہے۔
مزید پڑھیں
سعودی عرب میں موٹر ریلی (ریسنگ) کا باقاعدہ آغاز 1984ء میں ایسٹرن ریلی سے ہوا تاہم بعد میں حائل کے علاقے میں اس کھیل کو مستقل اور منفرد پہچان ملی۔
2006ء میں پہلی حائل ریلی کے انعقاد کے ساتھ ہی مملکت میں موٹر اسپورٹس کا ایک نیا دور شروع ہوا اور پھر آج تک سعودی عرب میں مجموعی طور پر 21 ریلیاں (اسپورٹس ریسنگ مقابلے) منعقد
کی جا چکی ہیں، جن میں مقامی اور بین الاقوامی ڈرائیورز کی شرکت سے اس ایونٹ کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔
حائل ریلی کی تاریخ میں کئی عالمی اور علاقائی چیمپئنز اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں، جن میں سعودی ڈرائیور یزید الراجحی نے 8 مرتبہ حائل ریلی کا ٹائٹل جیت کر سب سے زیادہ کامیاب ڈرائیور کا اعزاز حاصل کیا۔
اسی طرح قطر کے عالمی شہرت یافتہ ڈرائیور ناصر العطیہ 5 بار اس ریلی کے فاتح رہے۔
اس کے علاوہ اسپین کے لیجنڈری ڈرائیور کارلوس سائنز، جمہوریہ چیک کے میروسلاف زابلیتل اور کئی سعودی ڈرائیورز جن میں ابراہیم المہنا، فارس المشنا، عیسیٰ الدوسری اور دیگر نے بھی حائل ریلی میں جھنڈے گاڑھ کر اس ایونٹ کو یادگار بنایا۔
موٹر اسپورٹس ریلی کی تاریخ
موٹر اسپورٹس ریلی (ریسنگ) عالمی سطح پر انیسویں صدی کے آخر (1890ء) میں فرانس سے شروع ہوئی، جہاں کھلے اور کچے راستوں پر مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد 1895ء میں پیرس سے بورڈو تک پہلی باضابطہ کار ریس منعقد ہوئی، جو 1178 کلومیٹر فاصلے پر محیط تھی۔
اسی طرح 1900ء میں انگلستان میں 1000 میل ریس کا آغاز ہوا، جس میں مجموعی طور پر 65 گاڑیوں نے حصہ لیا تھا۔ بعد ازاں 1930ء میں یورپین ریلی چیمپئن شپ کا آغاز ہوا، جس میں مونٹی کارلو، سویڈن، ایکروپولس اور ڈاکار جیسے معروف تاریخی مقابلے شامل تھے۔
اسی عالمی روایت کا تسلسل آج حائل ریلی کی صورت میں مملکت سعودی عرب میں دکھائی دیتا ہے۔
سعودی عرب میں ریلی کلچر کا فروغ
عرب دنیا میں ریلی کویت (1974ء)، ریلی دبئی (1979ء)، ریلی الفراعنہ مصر (1980ء)، ابوظبی ڈیزرٹ ریلی (1991ء) اور ریلی اُردن (2008ء) جیسے مقابلوں نے اس کلچر کو بنیاد فراہم کی۔
بعد ازاں سعودی عرب میں ایسٹرن ریلی کا تجربہ 1984ء میں کیا گیا، جس کے بعد 2006ء میں حائل ریلی، پھر 2014ء میں جدہ ریلی، 2017ء میں عسیر ریلی اور 2019ء میں القصیم ریلی نے اس کھیل کو مزید شہرت دلائی۔
حائل ریلی کی غیر معمولی اہمیت
سعودی عرب میں حائل ریلی کی کامیابی نے دیگر علاقوں کی توجہ حاصل کی، جس کے نتیجے میں جدہ ریلی (2014)، عسیر ریلی (2017) اور القصیم ریلی (2019)ء جیسے بڑے مقابلے سامنے آئے۔
یہ تمام سرگرمیاں سعودی فیڈریشن برائے آٹو موبائلز اینڈ موٹرسائیکلز اور ریلیوں کی دیگر تنظیموں کی نگرانی میں منعقد ہوتی رہیں۔
حائل ٹویوٹا انٹرنیشنل ریلی
حائل ٹویوٹا انٹرنیشنل ریلی کو ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کا نمایاں ترین صحرائی مقابلہ (ڈیزرٹ ایونٹ) سمجھا جاتا ہے۔
اس کی باضابطہ اور طویل تیاریاں، عالمی معیار کے ٹریکس اور حائل کے منفرد صحرائی راستے اس ایونٹ کو دنیا بھر کے ڈرائیورز کے لیے پرکشش بناتے ہیں۔
حائل ٹویوٹا انٹرنیشنل ریلی کا نیا ایڈیشن 29 جنوری کو شروع ہونے جا رہا ہے، جو ایک بار پھر سعودی عرب کو عالمی موٹر اسپورٹس کے میدان میں توجہ کا مرکز بنا دے گا۔