اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

غصے اور چڑچڑے پن کی اصل وجہ شوگر نہیں، بھوک کا احساس ہے!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes

ایک نئی طبی سائنسی تحقیق کے نتائج میں انسانی غصے اور چڑچڑے پن کی وجوہ  سامنے آئی ہیں، جس نے  اس حوالے سے پائی جانے والی عام سوچ کا رُخ یکسر تبدیل  کردیا ہے۔

نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بھوک لگنے پر چڑچڑے پن اور غصے کی کیفیت، جسے عام طور پر ’’ہینگری (Hangry)‘‘ کہا جاتا ہے، براہِ راست خون میں شوگر کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس بات پر زیادہ منحصر ہوتی ہے کہ انسان اپنی بھوک کو ذہنی طور پر کس طرح سمجھتا اور محسوس کرتا ہے۔

مزید پڑھیں

اِس تحقیق نے اُس عام خیال کو چیلنج کیا ہے کہ صرف کم شوگر لیول ہی غصے اور بد مزاجی کی بنیادی وجہ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق روزمرہ زندگی میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ افراد گھنٹوں کھانا نہ کھانے کے باوجود پُرسکون رہتے ہیں جب کہ بعض لوگ معمولی بھوک میں بھی شدید بے چینی، غصے اور تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 

حالیہ مطالعے میں  بھی اسی فرق کی سائنسی

وضاحت پیش کی گئی ہے کہ غصے یا چڑچڑا پن پیدا کرنے میں اصل کردار جسمانی کیفیت کا نہیں بلکہ بھوک پر ذہنی رد عمل کا ہے۔

تحقیق اور نتائج

سائنس الرٹ اور دی کنورسیشن میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق محققین نے تقریباً 90 صحت مند بالغ افراد پر ایک ماہ تک تحقیق کی، جس کے  شرکا کے جسم میں مسلسل گلوکوز مانیٹرنگ ڈیوائسز نصب کی گئیں۔ 

یہ ڈیوائسز دن بھر ہر چند منٹ بعد خون میں شوگر کی سطح ریکارڈ کرتی رہیں۔

87451 1

اس کے علاوہ شرکا نے دن میں دو مرتبہ اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے اپنی بھوک اور مزاج سے متعلق سوالنامے بھی پُر کیے، جن میں بھوک کی شدت کو صفر سے 100 تک اسکیل پر ناپا گیا۔

تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ مزاج میں خرابی یا منفی جذبات اُس وقت زیادہ نمایاں ہوئے جب شرکا نے خود کو بھوکا محسوس کیا، نہ کہ اُس وقت جب محض شوگر لیول کم تھا۔ 

یہاں تک کہ بعض مواقع پر شوگر لیول کم ہونے کے باوجود مزاج پر کوئی خاص منفی اثر نہیں پڑا، جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جسمانی توانائی کی حالت سے زیادہ اہم یہ ہے کہ انسان اُس کیفیت کو ذہنی طور پر کیسے محسوس کرتا ہے۔

اندرونی جسمانی شعور

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن افراد میں ’اندرونی جسمانی شعور‘ (interoceptive awareness)  زیادہ ہوتا ہے، یعنی وہ اپنے جسم کے اندرونی سگنلز مثلاً بھوک، پیاس یا تھکن کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں، وہ بھوک کے باوجود نسبتاً کم چڑچڑے ہوتے ہیں۔ ایسے افراد بھوک کو فوری طور پر غصے یا تناؤ سے نہیں جوڑتے بلکہ وہ اسے ایک عارضی جسمانی احساس کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

745

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ بھوک کے سگنلز دماغ کے ایک حصے ’ہائپو تھیلمس‘ میں پیدا ہوتے ہیں جب کہ بھوک کا شعوری احساس دماغ کے دوسرے حصے ’انسولا‘ میں تشکیل پاتا ہے اور یہی فرق دراصل فیصلہ کرتا ہے کہ بھوک صرف ایک جسمانی احساس رہے گی یا منفی جذبات، غصے اور بد مزاجی میں تبدیل ہو جائے گی۔

غصے کے اثرات

ماہرین نفسیات کے مطابق بھوک سے پیدا ہونے والا غصہ نہ صرف صحت پر اثر ڈالتا ہے بلکہ سماجی تعلقات میں بھی تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔ 

اسی طرح بھوک کی حالت میں کیے گئے فیصلے اکثر جلد بازی پر مبنی ہوتے ہیں، جن میں غیر صحت بخش کھانوں کا انتخاب، غیر ضروری بحث یا کوئی منفی جذباتی ردِعمل شامل ہو سکتا ہے۔

نفسیات کے ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ طویل عرصے تک ایسی کیفیت ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

5454564

ماہرین کا مشورہ

اس نئی طبی سائنسی تحقیق کے اختتام پر ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ مناسب وقفے کے ساتھ متوازن غذا کا استعمال، جسمانی احساسات کو سمجھنے اور بھوک کے احساس کو شعوری طور پر پہچاننا موڈ کو بہتر رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔