اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

سعودی وژن کے ثمرات نمایاں، معیشت 4.7 کھرب ریال تک پہنچ گئی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Picture of حمید عوض العنزی

حمید عوض العنزی

سعودی کالم نگار۔ سبق

سعودی وژن 2030 نے معاشی تنوع اور نجی شعبے کے کردار میں اضافے کو اپنی اسٹریٹجک امنگوں کا مرکز بنایا ہے، محض ایک نعرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے عملی راستے کے طور پر جس کے نتائج اعداد و شمار میں ناپے جاتے ہیں۔ 

وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح کی پریس کانفرنس کے خلاصے میں ایک نئے مرحلے کی واضح جھلک نظر آتی ہے، جہاں مملکت ’نیت‘ سے ’کامیابی‘، اور ’منصوبہ بندی‘ سے ’حقیقت‘ کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں

سال 2024 کے اختتام تک مملکت کی معیشت کا حجم تقریباً 4.7 کھرب ریال (یعنی 1.25 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا، جو دس برس قبل 660 ارب ڈالر تھا، اور اس طرح سعودی عرب دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہو گیا۔
اس نمایاں تبدیلی کو اصلاحات اور مواقع کی اس وسیع تحریک سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا جس نے نجی شعبے اور سرمایہ کاری کے

 لیے ایک زیادہ پُرکشش ماحول تشکیل دیا۔
اسی معاشی نمو کے نتیجے میں 2016 سے اب تک تقریباً 8 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جس کے بعد 2025 کے اختتام تک نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودی شہریوں کی تعداد 24 لاکھ 80 ہزار تک جا پہنچی۔
سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی ایک اہم سنگِ میل عبور کیا گیا، جہاں 2025 کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق مجموعی سرمایہ کاری پہلی مرتبہ 1.5 کھرب ریال سے تجاوز کر گئی، جو 2017 کے مقابلے میں 120 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔

5644 1

براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں گزشتہ برسوں کے دوران اوسطاً 20 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا، یہاں تک کہ 2024 میں یہ 119 ارب ریال تک پہنچ گئی جبکہ اس کا مجموعی ذخیرہ تقریباً ایک کھرب ریال ہو گیا، جس سے مملکت سرمایہ کاری کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا کے 10 بڑے ممالک میں شامل ہو گئی۔
اسی طرح غیر ملکی کمپنیوں کے جاری کردہ لائسنسوں کی تعداد 62 ہزار سے تجاوز کر گئی، جو 2016 میں صرف 6 ہزار تھی جبکہ گزشتہ پانچ برسوں میں مملکت نے 700 سے زائد عالمی کمپنیوں کے علاقائی دفاتر کو راغب کیا، جو وژن 2030 کے ہدف (500 دفاتر) سے کہیں زیادہ ہے۔

قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ سعودی عرب سرمایہ کاری کو محض اعداد و شمار میں اضافے کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے مربوط نظام کے طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔ 

اگر گزشتہ برسوں میں توجہ ’طریقۂ کار میں آسانی‘ پر مرکوز تھی، تو آئندہ مرحلہ ایک زیادہ عنوان کے تحت آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے: یعنی ماہر اور مخصوص سرمایہ کار کو بااختیار بنانا۔ 

4546

اس کا مطلب یہ ہے کہ دروازے کھولنے سے آگے بڑھ کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آنے والا سرمایہ کار اپنے راستے سے آگاہ ہو، ماحول صرف خوش آمدید کہنے تک محدود نہ رہے بلکہ مؤثر معاونت فراہم کرے، پائیداری کو فروغ دے اور سرمایہ کار کو توسیع اور کاروباری کارکردگی بہتر بنانے کے عملی وسائل مہیا کرے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے