ڈاکٹر بدر بن سعود
سعودی کالم نگار۔ الریاض
8 جولائی 2025 کو غیر ملکیوں کے لیے جائیداد کی ملکیت کا جدید نظام منظور ہوا جو جنوری 2026 سے نافذ العمل ہے۔
یہ نظام ملک میں سابقہ دو قوانین کا تیسرا ورژن ہے۔
نئے قوانین کے تحت غیر سعودی شہری ریاض، جدہ، مکہ، مدینہ، طائف اور ساحلی علاقوں کے مخصوص حصوں میں جائیداد خرید سکتے ہیں جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ملکیت صرف مسلمان غیر ملکیوں کے لیے ہوگی۔
مزید پڑھیں
سعودی جائیداد کا شعبہ GDP کا 14 فیصد بنتا ہے۔
حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ضوابط مرتب کیے ہیں تاکہ یہ اقدامات وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔
نئے نظام سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، بین الاقوامی سرمایہ کاری کا بہاؤ اور غیر سعودی ڈویلپرز کے لیے کمپنیوں کے قیام اور مستحکم کام کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر بلدیات و رہائش ماجد الحقيل کے مطابق سعودی عرب نے گلوبل ریئل اسٹیٹ ٹرانسپیرنسی انڈیکس 2024 میں دنیا کے بہترین بہتر ہونے والے بازاروں میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کو میگا پروجیکٹس کے مخصوص علاقوں تک محدود رکھنے سے مارکیٹ میں استحکام اور قیمتوں کے توازن کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس سے سعودی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی مجموعی حجم 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے اور 400 پیشوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے بے روزگاری کی شرح 6 فیصد سے کم ہو سکتی ہے۔