مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے قوانین نافذ کیے جائیں جو ایک مخصوص عمر تک موبائل فون کے استعمال کو محدود کریں۔
انہوں نے مصری پولیس کے 74 ویں یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ’میں خود کو، حکومت کو اور پارلیمنٹ کو یاد دہانی کراتا ہوں کہ آسٹریلیا اور برطانیہ نے ایک خاص عمر تک موبائل فون کے استعمال کو محدود کرنے یا اس پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی ہے‘۔
مزید پڑھیں
مصری صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اس اقدام کا مقصد کسی نظام یا اقتدار کا تحفظ نہیں بلکہ بچوں کو اُن خطرات سے بچانا ہے جو ان کی سوچ، شعور اور شخصیت کی تشکیل کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
دوسری طرف مصری پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ احمد بدوی نے العربیہ سے گفتگو
کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر السیسی کی یہ تجویز اہم اور قابلِ تحسین قدم ہے جس کا بنیادی مقصد بچوں کا تحفظ اور مصری خاندان کے استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کمیٹی کے اراکین سے رابطہ کر کے وسیع پیمانے پر مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ بھی ہم آہنگی کی جا رہی ہے تاکہ عملی اطلاق کے طریقۂ کار اور نفاذ کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام تکنیکی ترقی کے منافی نہیں بلکہ اس کا مقصد بچوں اور نو عمر افراد کو اُن خطرات سے بچانا ہے جو کئی خلافِ ضابطہ ایپلی کیشنز کے استعمال سے لاحق ہوتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ 14 سال سے کم عمر کے بعض بچے خطرناک ایپلی کیشنز، جن میں الیکٹرانک شرط بندی کی ایپس بھی شامل ہیں، کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔