گورنر مشرقی ریجن کے شہزادہ سعود بن نائف بن عبدالعزیز منگل کو الاحساء میں ’حساوی بشت فیسٹیول‘ کے تیسرے ایڈیشن کا افتتاح کریں گے۔
یہ فیسٹیول ہیریٹیج اتھارٹی کے زیرِ اہتمام منعقد ہو رہا ہے اور 7 فروری 2026 تک الاحساء کے تاریخی قصر ابراہیم میں جاری رہے گا۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق اس کا مقصد حساوی بشت کی جمالیاتی خصوصیات کو اجاگر کرنا ہے، جو علاقے کی ثقافتی شناخت کی نمایاں علامتوں میں سے ایک ہے۔
واضح رہے کہ حساوی بشت نفیس اور روایتی مردانہ عبایا ہے جو سعودی عرب کے شہر الاحساء میں ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے۔
اسے ثقافتی شناخت اور قومی ورثے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یہ اپنی باریک اور معیاری سلائی، ہلکے وزن اور زری (سنہری یا چاندی کے دھاگوں) کی خوبصورت کڑھائی کی وجہ سے ممتاز ہے۔
اس کی تیاری میں 10 دن سے لے کر 6 ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
حساوی بشت عام طور پر سرکاری تقاریب اور شادی بیاہ کی تقریبات میں پہنا جاتا ہے اور اسے دنیا بھر میں بشوت کی بہترین اقسام میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ فیسٹیول منفرد ثقافتی موقع کی حیثیت رکھتا ہے جو ماضی کی اصالت اور حال کی روح کو یکجا کرتا ہے۔
اس کے ذریعے ایک جامع ثقافتی تجربہ پیش کیا جاتا ہے جو مقام کی خوشبو سے لبریز ہے اور حساوی بشت کی تاریخی اور جمالیاتی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔
اس ہنر مند ورثے کو نمایاں کرتا ہے جو مقامی یادداشت میں گہرائی سے پیوست ہے۔
فیسٹیول میں آنے والے زائرین کے لیے ایک بھرپور تجربہ فراہم کیا جائے گا جس میں خصوصی ورکشاپس شامل ہیں جہاں ہاتھ سے بُنائی اور سلائی کے فن میں عملی شرکت کا موقع ملے گا۔
زری کڑھائی اور اس سے وابستہ صنعتوں کی مہارتوں سے آگاہی حاصل کی جا سکے گی۔
اس کے علاوہ مقامی کاریگروں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیے جائیں گے اور ان کی پیداواری و مارکیٹنگ صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے گا۔