جبل عِکمَہ العلا کے نمایاں ترین آثارِ قدیمہ میں شمار ہوتا ہے اور اس وجہ شہرت دادانی دور کے تین سو سے زائد نہایت اہم کتبے اور نقوش ہیں جو اس میں محفوظ ہیں۔
یہ مجموعہ ماحولیاتی چیلنجز کے باوجود، جزیرہ عرب کے شمال مغرب میں محفوظ دادانی نقوش کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کےمطابق یہ نقوش قبلِ مسیح پہلی ہزاری کے دوران دادان کی تہذیب اور مجموعی طور پر خطے کی تاریخ کے لیے قیمتی تاریخی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں
ان کندہ تحریروں اور علامات میں سماجی سرگرمیوں اور انسانی جذبات کے اظہار کو محفوظ کیا گیا ہے جو مختلف ادوار کی تہذیبوں، خصوصاً دادان اور لحیان کی تہذیبوں کے دوران العلا کی زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
یہ نقوش لسانی اور ثقافتی اعتبار سے بھی نہایت اہم ہیں کیونکہ یہ اس دور میں بولیوں، طرزِ تحریر اور ادبی اسالیب کے ارتقا کو بھی
نمایاں کرتے ہیں۔
العلا رائل کمیشن کی کاوشوں اور سعودی قومی کمیشن برائے تعلیم، ثقافت اور سائنس کے تعاون سے جبل عِکمَہ کو اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو کے پروگرام ’میموری آف دی ورلڈ‘ کے عالمی رجسٹر میں شامل کیا گیا۔
یہ اس کی عالمی سطح پر اس کی تحقیقی اور آثارِ قدیمہ کی اعلیٰ قدر و اہمیت کا اعتراف ہے۔
اس اہمیت کی بنیاد نقوش کی اصل حیثیت اور ان کے محفوظ و سالم مواد پر ہے، کیونکہ یہ اب تک اپنی قدرتی جگہوں پر محفوظ ہیں، جو قدیم عرب مملکتوں کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے لیے مستند علمی مواد فراہم کرتے ہیں اور جزیرہ عرب کے شمال مغرب میں انسانی معاشروں کے ارتقا کو بہتر طور پر سمجھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔