ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ
مکہ مکرمہ
رمضان سے قبل شعبان کے یہ ایام ہمارے لئے استعداد رمضان کے شعور کو بیدار کرنے کیلئے بہترین ایام ہیں۔
آنے والے مہمان ماہ کی ہم کس طرح خاطر مدارت کریں اور کیسے اس کے شب وروز کو اپنی دنیوی اور اخروی سعادت کیلئے بسر کریں یہ ہمیں آج سوچنا چاہئے۔
رمضان کا قیمتی ماہ کہیں ہماری غفلت ہی میں نہ گزر جائے اور ہم اسے عام ایام کے لیل ونہار کی طرح غفلت کے نذر نہ کر بیٹھیں کیونکہ در حقیقت یہ عام دنوں سے مختلف لیل و نہار اور ان کا غفلت میں بسر ہونا ہماری بد قسمتی کی واضح علامت ہوگی۔
مزید پڑھیں
اس لئے اس قیمتی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں اس کے شب ورز کے لئے ایک مفصل اور قابل عمل اہداف اور پروگرام مرتب کرنے چاہئیں اور اس پر عمل کرنے کیلئے ہمیں اپنی تمام طاقت کو استعمال میں لانا چاہئے۔
یاد رکھئے کہ انسانی حیات میں وقت بہت ہی قیمتی اثاثہ ہے اور اس وقت کا صحیح انداز میں استعمال انسان کے لئے کامیابی کی واضح
علامت ہے۔
اس لئے اس مبارک وقت کو ہمیں اس کی تمام برکات ورحمات کے ساتھ حاصل کرنے کیلئے بہت فعال انداز میں مرتب پروگرام بنانے کی سعی کرنی چاہئے تاکہ اس کے گزرنے کے بعد اس کے وقت کے صحیح استعمال پر ہم اللہ تعالیٰ کے شاکر بنیں نا کہ شقی اور بد بخت ہوکر کفِ افسوس ملتے رہیں اور اس مبارک ماہ کی برکات کا تمام سال ہم پر ظہور ہوتا رہے۔
کسی بھی مہمان کی آمد پر ہم سب سے پہلے اپنے گھر کی صفائی کا خوب اہتمام کرتے ہیں اور مہمان کی قدر و قیمت کے حساب سے اس اہتمام میں اور بھی اضافہ ہوتا ہے۔
رمضان کی آمد سے قبل اپنے فرائض کی پابندی کا خوب اہتمام کریں اور جن حدود اللہ کے بابت گزشتہ 11ماہ میں آپ سے سہو اور غلطیاں ہوتی رہی ہیں ان سے توبہ کر کے گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کریں۔
اپنے دل کو صاف کریں اور ان شہوات سے دور ہو جائیں جن میں آپ کسی بھی طورپر ماضی میں ملوث رہے۔
ان بد نظریوں سے اللہ کے حضور توبہ کیجئے جو آپ کی آنکھ سے سرزد ہوئیں۔
آپ کی کانوں نے جو حرام سنا اس سے توبہ کیجئے۔
جس حرام کی طرف آپ کا ہاتھ دراز ہوا اس سے توبہ کیجئے۔
جن گناہ کی طرف آپ کے قدم چلے ان سے معافی مانگیں۔
اپنی نیت کو درست کیجئے۔
تمام اعمال کے صلاح وفساد اور قبولیت ورد کا مدار نیت پر ہے۔
عملِ صالح اور اللہ کے نزدیک مقبول صرف وہی عمل ہے جو صالح نیت کے ساتھ کیا گیا ہو۔
اللہ تعالیٰ عمل کے ساتھ نیت اور ظاہر کے ساتھ باطن کو بھی دیکھتا ہے۔
اس کے نزدیک ہر عمل کی قیمت اس کے نیت کے حساب سے ہے۔
آپ تقویٰ کی نعمت سے بہرور ہوجائیے۔
رمضان متقین کا مہینہ ہے اور قرآن اس کا روزے کی فرضیت کے اسباب میں اس کا واضح اعلان ’لعلکم تتقون‘ کہہ کر کرتا ہے۔
صلہ رحمی کا اہتمام کریں اوراس میں آگے بڑھئے۔ صلہ رحمی کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے ارد گرد اقارب اور تمام رشتہ داروں کے ساتھ احسان اور اچھائی کا معاملہ کریں۔
جتنا آپ سے ممکن ہو، انہیں فائدہ پہنچائیں اور جتنا آپ ان سے کوئی ضرر دور کرسکتے ہیں انہیں نقصان سے بچائیں۔
ان کے حقوق کا خیال رکھیں، ان سے راہ و رسم رکھیں۔ ان کی خیریت دریافت کریں، ان میں سے اگر کوئی مریض ہو تو اس کی عیادت کریں، انہیں ہدایا پیش کریں، ان میں سے اگر کوئی تنگ دست ہے تو اس کی مدد کریں۔ان کے خوشی اور غم میں شرکت کریں۔
اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کے ساتھ احسان کا حکم فرمایا ہے۔
رمضان میں فضول لہو و لعب سے احتراز کیجئے۔ اس کی مبارک گھڑیوں کو لہو و لعب کے نذر نہ ہونے دیں۔
اس مقام پر امام مالک کی یہ عادت یاد رکھیئے کہ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوجاتا تو وہ اپنی علمی مجالس کو چھوڑ کر صرف قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف ہوجاتے تھے کیونکہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم خود کو اس کے لئے فارغ نہ کرسکیں اور اس کے دن پلک جھپک میں ہمارے ہاتھوں سے اڑجائیں اور ہم خاک چھانتے رہیں، پھر اس افسوس اور کاش کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔