ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کے روز آپریشن وعد الصادق 4 کے تحت 62 ویں لہر کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس کارروائی میں اسرائیل کے اندر بڑے اہداف اور مشرق وسطیٰ میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ حملہ ایران کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اس مرحلے میں مسلسل تیسری بار اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی
تنصیبات کو ہدف بنایا گیا ہے، جسے تہران نے اپنی جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس حملے میں اسرائیل کے فوجی مراکز اور جنگی معاونت کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران نے ان حملوں کو اسرائیل کے جاری جرائم اور انہیں حاصل امریکی حمایت کا براہ راست ردعمل قرار دیتے ہوئے اپنی کارروائی کا دفاع کیا ہے۔
حملے میں قدر، خیبر شکن، عماد اور حاج قاسم جیسے جدید اسٹریٹیجک میزائل استعمال کیے گئے۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ حاج قاسم میزائل ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان میں انتہائی پیچیدہ اہداف کو نشانہ بنانے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ان میزائلوں نے عکا، حیفہ، تل ابیب اور بئر السبع میں اہم مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے، جو ان میزائلوں کو روکنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
امریکی تنصیبات کے حوالے سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا کہ حملوں میں علی السالم، وکٹوریہ، الخرج، العدید، العدیری، الظفرہ اور الازرق کے علاوہ امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ کے ہیڈ کوارٹر اور عریفجان بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو خطے کے مختلف ممالک میں واقع ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان کے اختتام پر خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے کوئی بھی نئی مہم جوئی کی تو انہیں وعد الصادق آپریشن کے تحت مزید شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔