قطر نے ایران میں ’ساؤتھ پارس‘گیس فیلڈ کی تنصیبات پر حالیہ اسرائیلی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قدم‘ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں
وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔
ترجمان ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں واضح کیا کہ ایران کی ’ساؤتھ پارس‘ گیس فیلڈ درحقیقت قطر کی ’نارتھ فیلڈ‘ ہی کی توسیع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی غیر معمولی اہمیت کی حامل تنصیبات پر حملہ کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
ترجمان نے مزید کہا کہ توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے نہ صرف عالمی منڈی میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ اس سے خطے کے عوام کی زندگیوں اور ماحول کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
قطر نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے کام کریں تاکہ خطے کی سلامتی کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ خلیج میں واقع ساؤتھ پارس فیلڈ دنیا کی سب سے بڑی قدرتی گیس فیلڈز میں سے ایک ہے، کیونکہ یہ ایران اور قطر کے درمیان مشترک ہے اور اسے قطر کی جانب نارتھ فیلڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی ایرانی توانائی کے ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں گیس فیلڈ کے بعض حصوں میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس بھی سعودی دارالحکومت ریاض میں طلب کیا گیا ہے جس میں خطے کی صورتحال اور علاقائی دفاعی چیلنجز پر مشاورت کی جائے گی۔