کریملن نے آج امریکی رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس نے ایران کو انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کی، جس میں سیٹلائٹ تصاویر اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی شامل ہے۔
کریملن نے ان الزامات کو ’جھوٹا‘ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔
کریملن نے خطے میں تناؤ بڑھنے کے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران سے متعلق جنگ کی وجہ سے عالمی توانائی کی مارکیٹ شدید خلل کا شکار ہے، جو سپلائی اور قیمتوں دونوں کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
ماسکو نے ایرانی رہنماؤں کو ہدف بنانے کی بھی سخت مذمت کی اور زور دیا کہ تصادم کو روکنا اور مزید کشیدگی سے بچنا ضروری ہے تاکہ خطے کی صورتحال مزید بگڑنے سے بچ سکے۔