اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

شوہر کے دوسرے نکاح کو ناپسند کرنے سے بیوی گناہگار ہوگی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

جامعہ الازہر شريف کی سربرآوردہ علمان بورڈ کے رکن ڈاکٹر شیخ علی جمعہ نے وضاحت کی ہے کہ تعددِ ازدواج کا مسئلہ اکثر سوالات اور الجھنوں کو جنم دیتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب خواتین کو اس بارے میں متضاد معلومات ملتی ہیں۔ 

کبھی انہیں بتایا جاتا ہے کہ انہیں انکار کا حق حاصل ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ محض انکار کرنا گناہ ہے۔ 

ان کے مطابق اس الجھن کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ دینی مسائل کے لیے سوشل میڈیا کو ذریعۂ معلومات بنا لیتے ہیں حالانکہ ایسے معاملات کا علم مختصر ویڈیوز یا جذباتی تبصروں سے نہیں بلکہ اہلِ علم اور ماہرین سے حاصل کیا جانا چاہیے۔

wedding rings and rainbow flag on wooden table ga 2026 03 05 11 42 35 utc

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق ڈاکٹر شیخ علی جمعہ نے کہا کہ اگر کوئی عورت تعددِ ازدواج کو قبول نہ کر سکے یا اسے اس پر اعتراض ہو تو یہ احساس نہ تو عجیب ہے اور نہ ہی گناہ بلکہ یہ وہ فطری کیفیت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو پیدا کیا ہے۔ 

یہ احساسات نہ غیر معمولی ہیں اور نہ ہی غیر فطری بلکہ خواتین کے اندر یہ جذبات عام طور پر پائے جاتے ہیں۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس فطری احساس کو شرعی حکم سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ 

اسلام میں تعددِ ازدواج کوئی ایسا دروازہ نہیں جو انتشار یا بے قاعدگی کو جنم دے، نہ ہی یہ بے راہ روی یا ناجائز تعلقات کا جواز ہے۔ 

بلکہ یہ نکاح کے اس نظام کا حصہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ ضابطوں کے ساتھ قائم کیا ہے۔ 

اس کا بنیادی مقصد غیر شرعی تعلقات اور زنا جیسے گناہوں سے بچاؤ اور معاشرے کو فحاشی سے محفوظ رکھنا ہے۔ 

چنانچہ شریعت نے مرد و عورت کے تعلق کو خواہشات کے بے لگام میدان کے طور پر نہیں چھوڑا بلکہ اسے ذمہ داریوں، حقوق اور شرعی حدود کے ساتھ منظم کیا ہے۔

newly married couple after their wedding 2026 01 11 08 14 36 utc

انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگوں نے تعدد کی اجازت کو غلط طور پر استعمال کرتے ہوئے اسے ناجائز گفتگو، بے ضابطہ تعارف یا جذباتی خیانت کے لیے بہانہ بنا لیا ہے، گویا مستقبل میں ممکنہ شادی کا تصور ہی حرام چیزوں کو جائز بنا دیتا ہے۔ 

یہ سوچ سراسر غلط ہے، کیونکہ جو چیز حرام ہے وہ حرام ہی رہتی ہے، اور تعددِ ازدواج بے قاعدگی کو جائز نہیں بناتا بلکہ اسے سخت شرائط اور ذمہ داریوں کے ساتھ محدود کرتا ہے، جن میں سب سے اہم عدل، استطاعت اور حقوق کی ادائیگی ہیں۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر ڈاکٹر شیخ علی جمعہ نے کہا کہ تعددِ ازدواج کو ناپسند کرنا عورت کا ایک فطری احساس ہے، جبکہ اس کی اجازت ایک منظم شرعی حکم ہے۔ 

اصل مسئلہ اس حکم کے غلط استعمال سے پیدا ہوتا ہے جو انتشار اور ظلم کو جنم دیتا ہے۔ صحیح فہم یہ ہے کہ انسان اہلِ علم کی طرف رجوع کرے اور فطرت اور شریعت، اجازت اور بے ضابطگی، اور اصل حکم اور عملی نتائج کے درمیان فرق کو سمجھے۔