اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

میزائل اور ڈرون کے خلاف سعودی فضائی دفاعی نظام کیسے کام کرتا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جوانوں کی مہارت کے باعث ان خطرات کو مؤثر طور پر ناکام بنایا گیا (فوٹو: سبق)

فضائی دفاعی نظام کی حقیقی آزمائش فوجی مشقوں میں نہیں بلکہ جنگ میں ہوتی ہے کیونکہ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جو کسی بھی دفاعی نظام کی اصل صلاحیت کو پرکھتا ہے۔

خطے میں حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سعودی عرب کو کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ساتھ دشمن ڈرونز کی متعدد لہروں کا سامنا کرنا پڑا، جن کا ہدف توانائی کی تنصیبات، فوجی اڈے اور شہری علاقے تھے۔ 

تاہم اللہ کے فضل اور فضائی دفاع کے جوانوں کی مہارت کے باعث ان خطرات کو مؤثر طور پر ناکام بنایا گیا اور مملکت کی فضاؤں اور سرزمین کو محفوظ رکھا گیا۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ دفاعی نظام، جو کئی دہائیوں پر محیط عسکری سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کا نتیجہ ہے، آج ایک کثیر پرتوں پر مشتمل فضائی اور میزائل دفاعی ڈھانچے کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو میزائلوں اور ڈرونز کو اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی دریافت اور تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ یہ محض ایک تکنیکی نظام نہیں بلکہ

 ایک حقیقی ڈھال ہے جو شہروں، اہم تنصیبات اور توانائی کے ذرائع کی حفاظت کرتی ہے۔

564456
سعودی عرب کثیر پرتوں والے مربوط فضائی دفاعی نظام پر عمل کرتا ہے (فوٹو: سبق)

سعودی فضائی دفاع کیسے کام کرتا ہے؟

سعودی عرب جدید عسکری تصور پر عمل کرتا ہے جسے کثیر پرتوں والا مربوط فضائی دفاعی نظام کہا جاتا ہے۔ 

اس نظام میں خطرے کو ابتدائی مرحلے میں دریافت کیا جاتا ہے، اس کی نوعیت اور راستے کا تجزیہ کیا جاتا ہے، پھر مناسب دفاعی پرت کا انتخاب کر کے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی روکنے کے لیے میزائل داغے جاتے ہیں۔

ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں

یہ نیٹ ورک طویل فاصلے تک کام کرنے والے ریڈارز، کمانڈ اور کنٹرول مراکز اور دفاعی میزائل نظاموں پر مشتمل ہے، جو مل کر مملکت کے اوپر ایک طرح کی ’الیکٹرانک چھتری‘ تشکیل دیتے ہیں۔ 

حالیہ برسوں میں تھاڈ جیسے جدید نظاموں کے شامل ہونے، پیٹریاٹ میزائلوں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون مخالف صلاحیتوں میں اضافے کے باعث یہ نظام مزید مضبوط ہوا ہے۔

54546546
فوٹو: سبق

پہلی پرت: ابتدائی انتباہی نظام

فضائی دفاع کی پہلی سطح اسٹریٹجک ریڈارز اور کمانڈ و کنٹرول نیٹ ورک سے شروع ہوتی ہے۔ یہ نیٹ ورک پیِس شیلڈ Peace Shield کے نظام سے منسلک ہے اور مسلسل فضائی حدود کی نگرانی کرتا ہے۔ 

جیسے ہی کوئی ہدف طویل فاصلے سے ظاہر ہوتا ہے، اس کی معلومات فوری طور پر آپریشن مراکز تک پہنچا دی جاتی ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ خطرہ بیلسٹک میزائل ہے، کروز میزائل، دشمن طیارہ یا ڈرون۔

دوسری پرت: بیلسٹک میزائلوں کے خلاف بلند دفاع

اس کے بعد دفاعی ڈھال کی دوسری اور بلند ترین سطح آتی ہے جس میں تھاڈ THAAD نظام کام کرتا ہے۔ 

یہ دنیا کے جدید ترین میزائل دفاعی نظاموں میں شمار ہوتا ہے اور 2025 میں سعودی عرب میں وسیع تربیت کے بعد فعال کیا گیا۔ 

یہ نظام طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کو بہت بلند بلندیوں پر، اور بعض اوقات فضا سے باہر بھی، تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

56454546
فوٹو: سبق

اس نظام کی بنیادی خصوصیت حرکیاتی ضرب Kinetic Hit ہے، یعنی دشمن میزائل کو دھماکہ خیز مواد کے بجائے انتہائی تیز رفتاری سے براہِ راست ٹکرا کر تباہ کیا جاتا ہے۔ 

تیسری پرت: میزائل دفاع کی ریڑھ کی ہڈی

اگلی سطح پر جدید فضائی دفاع کا معروف نظام پیٹریاٹ Patriot ہے، جو کئی دہائیوں سے سعودی فضائی دفاع کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ 

اس نظام میں مسلسل بہتری کی گئی ہے، جن میں جدید PAC-3 MSE میزائل شامل ہیں۔

سال کے آغاز میں امریکہ نے سعودی عرب کو تقریباً 9 ارب ڈالر مالیت کے 730 میزائل فراہم کرنے کی منظوری دی، جس کا مقصد بیلسٹک میزائلوں اور دشمن طیاروں کو روکنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ 

پیٹریاٹ نظام عام طور پر اس مرحلے پر کام کرتا ہے جب میزائل اپنے ہدف کے قریب پہنچ چکا ہوتا ہے، اس لیے یہ زمین تک پہنچنے سے پہلے آخری دفاعی پرت تصور کیا جاتا ہے۔

4545456 1
فوٹو: سبق

چوتھی پرت: درمیانی فاصلے کا نیا دفاع

خطرات کی نوعیت میں تبدیلی، خصوصاً قلیل فاصلے کے میزائلوں اور ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث سعودی عرب نے درمیانی دفاعی نظام بھی شامل کرنا شروع کیے ہیں۔ 

ان میں جنوبی کوریا کا چونگنگ 2 (M-SAM II) نمایاں ہے۔

یہ درمیانی فاصلے کا جدید دفاعی نظام ہے جو کم بلندی پر پرواز کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو مؤثر انداز میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پانچویں پرت: اہم تنصیبات کا قریبی دفاع

اگرچہ طویل فاصلے کے دفاعی نظام مضبوط ہیں، لیکن جدید خطرات اکثر چھوٹے اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف جیسے ڈرونز کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ 

اسی وجہ سے سعودی عرب قریبی دفاعی نظام بھی استعمال کرتا ہے، جن میں شاہین (فرانسیسی کروتال نظام کا سعودی ورژن) شامل ہے۔

65454564654
فوٹو: سبق

ڈرونز کے خلاف دفاع کے لیے فضائی دفاعی توپیں اور مختصر فاصلے کے ریڈار نظام جیسے اسکائی گارڈ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ 

یہ نظام تیل کی تنصیبات، فضائی اڈوں اور بڑے شہروں جیسے اہم اہداف کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ڈرونز کے خلاف خصوصی نظام ADRIAN بھی شامل کیا گیا ہے، جو ڈرونز کی شناخت، تعاقب اور انہیں ناکارہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

فضائیہ اور فضائی دفاع کا مشترکہ کردار

اس کثیر پرتوں والی میزائل ڈھال کے ساتھ ساتھ رائل سعودی ایئر فورس بھی فضائی دفاع کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کام کرتی ہے۔ 

سعودی لڑاکا طیارے فضائی گشت کرتے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو فضائی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی مربوط دفاعی نظام کے باعث سعودی عرب اپنی فضائی حدود کو محفوظ رکھنے، استحکام برقرار رکھنے اور اپنی سرزمین کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔