خلیج تعاون کونسل ’جی سی سی‘ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور برطانیہ کی وزیر خارجہ و دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور ایویٹ کوپر نے 12 مارچ 2026 کو منعقدہ ایک ہنگامی اجلاس کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی جانب سے خلیجی ممالک اور اردن کے خلاف حملوں میں ہونے والے اضافے پر غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اجلاس میں جی سی سی کے وفد کی قیادت بحرین کے وزیر خارجہ اور کونسل کے وزارتی اجلاس کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی جبکہ برطانوی وفد کی قیادت وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کی۔
اجلاس میں خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے علاوہ خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی بھی شریک تھے۔
وزراء نے دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا، جس کا اعلان نومبر 2016 میں بحرین میں ہونے والے جی سی سی، برطانیہ سربراہی اجلاس میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے آزاد تجارتی معاہدے کے حوالے سے جاری مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
مشترکہ اعلامیہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 (2026) کی منظوری کا خیرمقدم کیا گیا، جس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور اردن پر کیے گئے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
قرارداد میں ایران کی جانب سے رہائشی علاقوں اور شہری بنیادی ڈھانچے، بشمول تیل اور خدماتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں شہری جانی نقصان اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
وزراء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی ممالک اور اردن کے ساتھ عالمی برادری نے غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کا ثبوت اقوام متحدہ کے 136 رکن ممالک کی جانب سے قرارداد 2817 کی حمایت ہے۔
اعلامیہ میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر تمام حملے بند کرے اور پڑوسی ممالک کے خلاف کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی یا دھمکی سے باز رہے، بشمول خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کے استعمال سے گریز کرے۔
وزراء نے اس موقع پر خلیجی ممالک کے ساتھ یکجہتی اور ان کی سلامتی کے لیے برطانیہ کے عزم کو بھی سراہا۔
وزراء نے خطے میں استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مکمل احترام اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں
اعلامیہ میں ایران سے ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو خطے کے استحکام کو متاثر کرتے ہوں، جن میں پراکسی گروہوں کا استعمال اور دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت شامل ہے۔
وزراء نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حملوں سے پہلے خلیجی ممالک نے سفارتی کوششیں کیں اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
انہوں نے بحران کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو بنیادی راستہ قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں سلطنتِ عمان کے تعمیری کردار کو سراہا اور خطے میں استحکام اور سلامتی کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔
اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت خلیجی ممالک کو ایران کے مسلح حملوں کے خلاف انفرادی اور اجتماعی دفاع کا حق حاصل ہے، جیسا کہ قرارداد 2817 میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔
وزراء نے کہا کہ جی سی سی ممالک کو اپنی سلامتی، استحکام، سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔