اہم خبریں
15 March, 2026
--:--:--

عالمی تیل بحران برقرار: تاریخ کا سب سے بڑا اسٹریٹیجک آئل ریلیز

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

ایران کے خلاف جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کے درمیان انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) اور اس کے اتحادی ممالک نے ہنگامی تیل ذخائر کے تاریخ کے سب سے بڑے اجرا کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیں

اس بڑے اقدام کے باوجود عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورت حال کم نہیں ہو سکی اور تیل کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اس اعلان کے بعد بھی عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

قیمتیں 17 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں اور برینٹ مسلسل دوسرے دن 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی کی 

عالمی منڈی ابھی تک سپلائی کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے مطمئن نہیں۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

عالمی اتحاد کا 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا فیصلہ

توانائی کے جاری بحران سے نمٹنے کے لیے امریکہ، یورپ، شمالی امریکہ اور شمال مشرقی ایشیا کے 30 سے زیادہ ممالک نے عالمی منڈی میں 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اقدام انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی تقریباً 50 سالہ تاریخ میں سب سے بڑا ہنگامی اجرا سمجھا جا رہا ہے۔

اس آپریشن میں سب سے بڑا کردار امریکا کا ہے، جس نے اپنے اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو سے 172 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

یہ مقدار مجموعی اجرا کا تقریباً 43 فیصد بنتی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران کے مقابلے میں واشنگٹن مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی بنیادی طور پر اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی تھی کہ عالمی توانائی بحران کے دوران رکن ممالک کو مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے سپلائی برقرار رکھنے میں مدد دی جا سکے۔

strategic oil reserve 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)

منڈی کا اعتماد بحال کیوں نہیں ہو سکا؟

اگرچہ ہنگامی ذخائر کے اس بڑے اجرا کو توانائی کی منڈی کو مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، مگر خلاف توقع تیل مارکیٹ نے اس اقدام پر مثبت ردعمل نہیں دیا۔

اعلان کے بعد قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کاروں اور خریداروں کو سپلائی کے مستقبل کے بارے میں ابھی بھی شدید خدشات ہیں۔

لندن میں توانائی کمپنی PVM کے تجزیہ کار تاماس ورگا کے مطابق خلیجی خطے میں تیل کے ذخائر اور تنصیبات مسلسل خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت نے اس اہم تجارتی راستے کو بند رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے توانائی کی عالمی منڈی پر دباؤ برقرار رہے گا۔

اسی طرح توانائی ریسرچ کمپنی Rystad Energy کے سینئر تجزیہ کار ٹام لائلز کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی دوبارہ شروع نہیں ہوتی، اس نوعیت کے سیاسی اعلانات کا عالمی تیل منڈی پر محدود اثر ہی پڑے گا۔

strait of hormuz
(فوٹو: انٹرنیٹ)

آبنائے ہرمز کی بندش اور سپلائی میں بڑا خلا

جنگ سے پہلے سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات روزانہ تقریباً 14 ملین بیرل تیل عالمی منڈیوں کو فراہم کرتے تھے اور آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد ان ممالک کے لیے تیل کی برآمدات ایک بڑا چیلنج بن گئی ہیں۔

متبادل راستوں کے طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے تقریباً 5 سے 6 ملین بیرل یومیہ تیل کو بحیرہ احمر اور خلیج عمان کے راستے برآمد کیا جا سکتا ہے۔

مگر اس کے باوجود تقریباً 9 ملین بیرل یومیہ تیل یعنی عالمی سپلائی کا تقریباً 10 فیصد حصہ اس وقت تک متاثر رہے گا جب تک آبنائے ہرمز دوبارہ کھل نہیں جاتی۔

ہنگامی ذخائر کب تک مدد دے سکتے ہیں؟

اگر 400 ملین بیرل تیل کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ مقدار تقریباً 40 دن تک بحران کا شکار سپلائی کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق عملی طور پر صورتحال اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

Rystad Energy کے تجزیہ کار ٹام لائلز کے مطابق یہ تمام مقدار ایک ساتھ عالمی منڈی میں نہیں ڈالی جا سکتی، اس لیے اس کا اثر قیمتوں پر فوری طور پر نظر نہیں آئے گا۔

امریکا کے اسٹریٹیجک ذخائر اور سپلائی کی حقیقت

امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 120 دنوں کے دوران 172 ملین بیرل تیل جاری کرے گا، جو یومیہ تقریباً 1.4 ملین بیرل بنتا ہے۔ یہ مقدار آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہونے والی سپلائی کا صرف 15 فیصد ہے۔

مزید یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد بھی ان بیرلز کو عالمی منڈی تک پہنچنے میں تقریباً 13 دن لگ سکتے ہیں۔

دوسری طرف انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے ابھی تک واضح نہیں کیا کہ دیگر رکن ممالک کب اور کتنی مقدار میں اپنے ذخائر جاری کریں گے۔ ایجنسی کے مطابق ہر ملک اپنی داخلی صورتحال کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات

توانائی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق ہنگامی ذخائر کے اجرا کے باوجود تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Rystad Energy کے اندازوں کے مطابق اگر جنگ دو ماہ تک جاری رہی تو برینٹ کروڈ کی قیمت اپریل تک 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

اگر جنگ 4 ماہ تک پھیل گئی تو جون تک قیمتیں 135 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔

اسٹریٹیجک ذخائر کے ختم ہونے کا خطرہ

توانائی بحران کے اس مرحلے میں ایک اور خطرہ بھی سامنے آ رہا ہے، اور وہ ہے اسٹریٹیجک ذخائر کا تیزی سے ختم ہونا۔ 400 ملین بیرل کا اجرا IEA کے مجموعی ذخائر کا تقریباً 33 فیصد بنتا ہے، جو مجموعی طور پر 1.2 ارب بیرل ہیں۔

امریکی حصہ اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔ امریکا کے اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو کا مجموعی حجم 415 ملین بیرل ہے اور اس میں سے جاری ہونے والی مقدار تقریباً 41 فیصد بنتی ہے۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے منصوبہ بنایا ہے کہ آئندہ سال کے دوران 200 ملین بیرل تیل خرید کر اس ذخیرے کو دوبارہ بھر دیا جائے گا اور اس عمل میں امریکی ٹیکس دہندگان پر اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

گیس کی سپلائی بھی متاثر

حالیہ توانائی بحران صرف تیل تک محدود نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس (LNG) بھی عالمی منڈی تک نہیں پہنچ پا رہی۔

بحران کا اصل حل: آبنائے ہرمز کی بحالی

امریکی تحقیقاتی ادارے Wolfe Research کے پالیسی سربراہ ٹوبن مارکس کے مطابق ہنگامی ذخائر کے اجرا سے تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کو کچھ حد تک کم کیا جا سکتا ہے، مگر یہ بحران کا مکمل حل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی منڈی کی اصل بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آبنائے ہرمز دوبارہ کھل نہیں جاتی اور عالمی تیل و گیس کی سپلائی معمول پر نہیں آتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ اجرا کے بعد مزید ہنگامی مدد کے امکانات بھی محدود دکھائی دیتے ہیں۔