اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

ایران کے خلاف جنگ تیسرے ہفتے میں داخل، کشیدگی میں مسلسل اضافہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اب اس تنازع کا مرکز تیزی سے تیل، توانائی کے مراکز اور آبنائے ہرمز بنتے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

جنگ کے سولہویں دن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارک کو تباہ کرنے کی دھمکی دی۔

دوسری جانب اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو قتل کرنے کا اعلان کر کے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔

اسی دوران عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ اس 

جنگ کے نتیجے میں تیل کی سپلائی اور توانائی کی عالمی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

جزیرہ خارک: ایرانی تیل برآمدات کا اہم مرکز

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ امریکا جزیرہ خارک پر مزید حملے کر سکتا ہے، جو ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی حملوں نے جزیرے کے بیشتر حصوں کو تباہ کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ بظاہر تہران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے، تاہم موجودہ شرائط امریکا کے لیے ابھی قابل قبول نہیں ہیں۔

war 13th day trump iran attack
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کا بحران

صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ جو ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل حاصل کرتے ہیں انہیں اس اہم سمندری گزرگاہ کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ امریکا اس سلسلے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ان ممالک کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اس آبی راستے میں نقل و حمل تیزی، روانی اور مؤثر انداز میں جاری رہے۔

آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے عالمی ردعمل

امریکی تجویز پر کئی ممالک نے اس اہم سمندری راستے کے تحفظ کے لیے مختلف امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔

جاپان کی حکمران جماعت کے پالیسی امور کے عہدیدار تاکایوکی کوبایاشی نے بھی اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ جاپان آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے جنگی جہاز بھیج سکتا ہے۔

دوسری جانب فرانس ایسے اتحاد کی تشکیل کی کوشش کر رہا ہے جو حالات بہتر ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی کو یقینی بنا سکے۔

اُدھر برطانیہ بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مختلف آپشنز پر مشاورت کر رہا ہے تاکہ اس اہم سمندری راستے میں جہاز رانی کو محفوظ رکھا جا سکے۔

hurmuz strait ship attacked
(فائل فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران کی سخت دھمکی

امریکی دھمکیوں کے جواب میں ایران نے بھی سخت موقف اختیار کیا ہے۔

تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ مشرق وسطیٰ میں امریکا سے منسلک تیل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو راکھ میں تبدیل کر دے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کی نیتن یاہو کو قتل کرنے کی دھمکی

کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے سرکاری پلیٹ فارم سپاہ نیوز پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر بچوں کے قاتل نیتن یاہو زندہ ہیں تو ایران انہیں تلاش کر کے قتل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ 

tehran attacked 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران کے میزائل اور ڈرون حملے

پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ 

ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کے صنعتی علاقوں میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کے بدلے میں جوابی کارروائی کے پہلے مرحلے کے طور پر کی گئیں۔

اسی دوران ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات کے اہم توانائی مرکز الفجیرہ پورٹ میں واقع ایک بڑے انرجی ہب کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا، تاہم بعد میں بندرگاہ کی سرگرمیاں دوبارہ بحال کر دی گئیں۔

بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملہ

علاقائی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملہ کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد امریکا نے اپنے شہریوں کو عراق چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی۔

ماہرین کے مطابق ایسے حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ یہ جنگ صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے میں پھیلنے کا خطرہ رکھتی ہے۔

irani missile
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اسرائیلی فضائی حملوں کی نئی لہر

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے مغربی ایران میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ 

اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایرانی نظام سے وابستہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کے وسطی شہر اصفہان میں ایک فیکٹری پر حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔

سفارتی کوششیں اور علاقائی رابطے

سیاسی محاذ پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایسی کسی بھی سفارتی کوشش کا خیر مقدم کرے گا جو جنگ کے مکمل خاتمے کا باعث بنے۔ 

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے قطر، سعودی عرب، سلطنت عمان اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ممکن ہے بعض عرب ممالک میں شہری اہداف پر ہونے والے حملوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہو، اور ایران اس حوالے سے خطے کے ممالک کے ساتھ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کے لیے تیار ہے۔

qatar shot down iranian plane missile and drone
(فوٹو: سبق)

یوکرین بھی جنگ کے تناظر میں شامل

جنگ کے اس پیچیدہ منظرنامے میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی بھی سامنے آئے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ روس ایران کو ’شاہد‘ ڈرون فراہم کر رہا ہے جو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔

توانائی، سلامتی اور عالمی سیاست کا نیا مرحلہ

موجودہ جنگ کے تیسرے ہفتے تک پہنچتے پہنچتے واضح ہو گیا ہے کہ یہ تنازع صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہا بلکہ توانائی، عالمی تجارت اور بین الاقوامی سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ 

آبنائے ہرمز، جزیرہ خارک اور خطے کے توانائی مراکز اب اس جنگ کے مرکزی عناصر بن چکے ہیں۔