امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔
مزید پڑھیں
ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں میں خلیج کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنانے کی کوششوں نے عالمی توانائی سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
اسی تناظر میں سعودی عرب کی شیبہ آئل فیلڈ ایک اہم اسٹریٹیجک مقام کے طور پر سامنے آئی ہے۔
جنگ کے آغاز یعنی 28 فروری 2026 سے اب تک یہاں 75 ڈرون حملوں
کی کوشش کی گئی، تاہم سعودی فضائی دفاعی نظام نے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا اور ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
دنیا کے بڑے توانائی منصوبوں میں سے ایک
شیبہ آئل فیلڈ سعودی عرب کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے اور یہ دنیا کے بڑے زمینی توانائی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ آئل فیلڈ ربع الخالی کے وسیع صحرا میں واقع ہے۔
متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب واقع اس آئل فیلڈ کو مملکت کی قومی تیل کمپنی سعودی ارامکو چلاتی ہے، جس نے جدید ٹیکنالوجی اور وسیع انفرا اسٹرکچر کے ذریعے اسے اعلیٰ معیار تیل کے اہم ترین ذرائع میں تبدیل کر دیا ہے۔
سخت ترین صحرائی ماحول میں تعمیر منصوبہ
شیبہ آئل فیلڈ میں تیل کی دریافت 1968 میں ہوئی تھی، تاہم ربع الخالی کے سخت جغرافیے اور شدید موسمی حالات کے باعث اس منصوبے کی ترقی کئی سال تک ممکن نہ ہو سکی۔
یہاں ریت کے بڑے ٹیلے اور شدید گرمی پائی جاتی ہے اور درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
1990 کی دہائی میں تیل کی صنعت میں ٹیکنالوجی کی شمولیت کے بعد اس میدان کی عملی ترقی شروع ہوئی اور 1998 میں یہاں سے تجارتی سطح پر تیل کی پیداوار شروع ہو گئی۔
اس میدان کو فعال بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر انفرا اسٹرکچر تعمیر کیا گیا، جس میں شامل ہیں:
• صحرا کے اندر 386 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر
• 145 سے زیادہ تیل کے کنوؤں کی کھدائی
• 645 کلومیٹر طویل پائپ لائن جو تیل کو پراسیسنگ مراکز تک پہنچاتی ہے
• کارکنوں کے لیے رہائشی کمپلیکس
• ایک مقامی ہوائی اڈہ
• مکمل صنعتی اور آپریشنل سہولیات
ان پیچیدہ مراحل کی وجہ سے شیبہ آئل فیلڈ کو دنیا کے سخت ترین ماحول میں موجود تیل منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ایک ملین بیرل یومیہ پیداوار
شیبہ آئل فیلڈ اس وقت سعودی عرب کے اہم ترین تیل پیدا کرنےو الے مقامات میں شامل ہے۔ اس کی موجودہ پیداواری صلاحیت تقریباً ایک ملین بیرل یومیہ ہے۔
یہ فیلڈ عربی سپر لائٹ کروڈ آئل پیدا کرتی ہے جو عالمی منڈی میں اعلیٰ معیار کے تیل کی اقسام میں شمار ہوتا ہے۔ اس تیل کو آسانی سے ریفائن کیا جا سکتا ہے اور اس کی قدر بھی زیادہ ہوتی ہے۔
تخمینوں کے مطابق اس فیلڈ میں تقریباً 14 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ اس کے ساتھ بڑی مقدار میں قدرتی گیس بھی پائی جاتی ہے۔
ایل این جی کا اہم منصوبہ
شیبہ فیلڈ میں صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ ایل این جی نکالنے کا ایک بڑا منصوبہ بھی موجود ہے۔
اس منصوبے کی پیداواری صلاحیت تقریباً 2.4 ارب مکعب فٹ یومیہ ہے۔ یہ پیداوار سعودی عرب کی پیٹروکیمیکل صنعت کے لیے خام مال فراہم کرتی ہے اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
شیبہ آئل فیلڈ کی اسٹریٹیجک اہمیت
شیبہ آئل فیلڈ کی اہمیت کئی عوامل کی وجہ سے غیر معمولی ہے۔
سب سے اہم وجہ اس کی بڑی پیداواری صلاحیت ہے کیونکہ روزانہ ایک ملین بیرل تیل کی پیداوار سعودی عرب کی مجموعی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ یہاں سے نکلنے والا انتہائی ہلکا اور اعلیٰ معیار کا خام تیل عالمی منڈی میں زیادہ طلب رکھتا ہے۔
اس فیلڈ کا جغرافیائی محل وقوع بھی اہم ہے۔ اگرچہ یہ ربع الخالی کے دُور دراز صحرا میں واقع ہے، لیکن یہ مشرقی سعودی عرب کے تیل برآمدی راستوں اور پائپ لائن نیٹ ورک کے نسبتاً قریب ہے۔
جنگ کے دوران ڈرون حملوں کی تفصیل
سعودی وزارت دفاع کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد شیبہ آئل فیلڈ کو متعدد بار ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:
• 7 مارچ کو تقریباً 21 ڈرون مار گرائے گئے
• 8 مارچ کو 3 ڈرون تباہ کیے گئے
• 9 مارچ کو مزید 21 ڈرون روکے گئے
• 10 مارچ کو 2 ڈرون مار گرائے گئے
• 11 مارچ کو 8 ڈرون تباہ کیے گئے
• 12 مارچ کو 17 ڈرون روک لیے گئے
یہ تمام حملے سعودی فضائی دفاعی نظام نے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیے۔
عالمی تیل منڈی کے استحکام میں اہم کردار
جنگ جاری رہنے کے باوجود شیبہ آئل فیلڈ اس وقت سخت حفاظتی نگرانی میں ہے۔
یہ فیلڈ نہ صرف سعودی عرب کی توانائی پالیسی کا ایک اہم ستون ہے بلکہ عالمی تیل کی فراہمی کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔