امریکہ کی جانب سے ایران کے اہم تیل جزیرے خارگ کو نشانہ بنائے تقریباً 24 گھنٹے سے زیادہ گزر چکے ہیں مگر اس حملے کے پس منظر اور اس کے ممکنہ مقاصد کے بارے میں اب بھی کئی سوالات اور بحث جاری ہے۔
امریکی حملے میں اس ایرانی جزیرے پر واقع فوجی تنصیبات اور اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جو ایران کی تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ دنیا تک پہنچاتا ہے۔
واشنگٹن نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز میں وہ اقدامات جاری رکھتا ہے جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’حملے اور ہراسانی‘ قرار دیتے ہیں، تو تیل کی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں
تاہم مبصرین کے مطابق معاملہ صرف ایک فوجی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے وسیع تر سیاسی اور اقتصادی عزائم بھی ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے سیاسی و اقتصادی حلقوں میں یہ بڑا سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ حملے مستقبل میں ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا پرانا خیال
دلچسپ بات یہ ہے کہ جزیرۂ خارگ کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنے کا خیال نیا نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاست میں آنے سے کئی برس قبل، 1980 کی دہائی میں ایک انٹرویو کے دوران اس جزیرے کو ایران کی بڑی کمزوری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو وہ جزیرۂ خارگ پر فوجی کارروائی کر کے اسے اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔
امریکہ میں اختلافِ رائے
امریکہ کے اندر بھی اس طرح کے اقدامات کے بارے میں آراء منقسم ہیں۔
بعض قدامت پسند سیاست دانوں کا خیال ہے کہ جزیرے کو نشانہ بنانا یا اس پر کنٹرول حاصل کرنا ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور تہران کو کئی معاملات میں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
اس مؤقف کی قیادت ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کر رہے ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ جزیرے پر کنٹرول ایران کی معیشت کو مفلوج کر سکتا ہے اور تنازع کو مختصر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسا اقدام پورے خطے میں خطرناک کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے اور ایران ممکنہ طور پر خطے کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے یا آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ایرانی تیل کے تاج کا گوہر
جزیرۂ خارگ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں سے ایرانی خام تیل کا تقریباً 80 سے 90 فیصد عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
اسی وجہ سے اسے ایرانی توانائی کے شعبے کے ’تیل کے تاج کا گوہر‘ بھی کہا جاتا ہے۔
حالیہ اندازوں کے مطابق ایران اس وقت روزانہ اوسطاً 1.3 سے 1.6 ملین بیرل تیل برآمد کر رہا ہے، جس کا بڑا حصہ اسی جزیرے کی تنصیبات کے ذریعے دنیا تک پہنچتا ہے۔
اس جزیرے سے برآمد ہونے والا ایرانی تیل زیادہ تر ایشیائی منڈیوں میں جاتا ہے، جہاں چین سب سے بڑا خریدار ہے۔
توانائی منڈی کے اندازوں کے مطابق بیجنگ اوسطاً روزانہ 1.2 سے 1.5 ملین بیرل ایرانی تیل براہِ راست یا بالواسطہ ذرائع سے درآمد کرتا ہے، حالانکہ ایران پر عالمی پابندیاں بھی عائد ہیں۔