اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

خطے میں جنگ کے باوجود خلیجی معیشت خطرے سے باہر، عالمی ایجنسی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے کہا ہے کہ بیشتر خلیجی ممالک کے پاس اتنے مالی ذخائر موجود ہیں جو انہیں موجودہ علاقائی بحران کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باوجود وہ فی الحال خلیجی ممالک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

ایجنسی نے جمعرات کو خبردار کیا کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بعض ممالک پر معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر وہ ریاستیں جو پہلے ہی مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ 

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسٹینڈرڈ اینڈ پورز کے سینئر تجزیہ کاروں نے ایک آن لائن سیمینار کے دوران بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع، جس میں امریکا اور اسرائیل کی ایران پر کارروائیاں اور تہران کی جانب سے اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا شامل ہے، اب کم خطرے کے منظرنامے سے نکل کر درمیانے درجے کے خطرے کی صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اس کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کی بڑی مالیاتی بچتیں اور مستحکم پالیسیاں انہیں اس بحران کے اثرات کو کچھ عرصے تک برداشت کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔

اسٹینڈرڈ اینڈ پورز میں عالمی خودمختار قرضوں کے سینئر تجزیہ کار روبرٹو سیفون اریوالو نے کہا کہ موجودہ حالات کے بارے میں جلدی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے، تاہم اگر بحران طویل عرصے تک جاری رہا تو خطے کی معاشی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔