اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

ایرانی ڈرونز کے خلاف اے آئی سے لیس جدید امریکی ہتھیار Merops

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو انٹرنیٹ)

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکا نے میدانِ جنگ میں مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے ہزاروں جدید ڈرونز تعینات کردیے ہیں، جن کا مقصد دشمن کے ڈرون حملوں کا فوری اور مؤثر جواب دینا ہے۔

مزید پڑھیں

امریکی حکام کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے خطے میں تقریباً 10 ہزار اسمارٹ ڈرونز تعینات کیے جا چکے ہیں۔

ان ڈرونز کو “Merops” کہا جاتا ہے اور انہیں دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی Perennial Autonomy نے تیار کیا ہے، جس کی تفصیلات امریکی نشریاتی ادارے ABC News نے رپورٹ کی ہیں۔

Merops ڈرونز کی خاص بات یہ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے 

دشمن کے ڈرونز کی شناخت، ان کا تعاقب اور پھر انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

یہ نظام فوج کو ڈرونز کے جھنڈ یا بڑی تعداد میں آنے والے حملوں کا تیزی سے مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہر کارروائی کے لیے براہ راست انسانی مداخلت کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔

یہ ڈرونز خاص طور پر خودکش یا حملہ آور ڈرونز کو روکنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جن میں ایرانی ساختہ ’شاہد‘(Shahed) ڈرونز بھی شامل ہیں۔

یہی ڈرونز روس یوکرین جنگ میں استعمال کرتا رہا ہے اور حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کے خلاف بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق Merops ڈرونز کو یوکرین جنگ میں وسیع پیمانے پر آزمایا گیا، جہاں انہوں نے ایک ہزار سے زیادہ شاہد ڈرونز کو مار گرایا۔ اس تجربے نے ان کی مؤثریت پر اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔

اہم بات یہ ہے کہ اس نظام کو تیار کرنے والی کمپنی Perennial Autonomy کو معروف ٹیکنالوجی شخصیت اور گوگل کے سابق چیف ایگزیکٹو ایرک شمٹ کی سرمایہ کاری بھی حاصل ہے، جو حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی ٹیکنالوجیز میں نمایاں سرمایہ کار بن کر سامنے آئے ہیں۔

ان ڈرونز کی تعیناتی دراصل امریکا کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد جدید جنگوں میں بڑھتے ہوئے ’ڈرون وارفیئر‘ کے رجحان کا مقابلہ کرنا ہے۔

کم لاگت مگر مؤثر ڈرونز کے بڑھتے استعمال نے جدید جنگی حکمت عملی کو نمایاں طور پر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔