مشرقِ وسطیٰ میں 28 فروری 2026 سے جاری جنگ کے باعث خلیجی ممالک کے سیاحتی شعبے میں خدشات بڑھنے لگے ہیں اور اگر بحران طویل ہوگیا تو 4 خلیجی ممالک میں تقریباً 20 لاکھ سیاحت سے وابستہ ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے اثرات اب سفر، ہوٹل بکنگ اور تفریحی سرگرمیوں پر واضح طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
خلیجی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت میں سیاحت کو معیشت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔
اس شعبے سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد غیر ملکی کارکنوں پر مشتمل ہے جو اپنی آمدنی کے لیے اسی صنعت پر انحصار کرتے ہیں۔
ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل کے اندازوں کے مطابق صرف متحدہ عرب امارات میں سیاحت کا شعبہ تقریباً 9 لاکھ 25 ہزار ملازمتیں فراہم کرتا ہے، جو ملک کی معیشت کا تقریباً 13 فیصد حصہ بنتا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
امارات میں 800 سے زائد ہوٹل، بڑے شاپنگ مالز اور عالمی معیار کے تفریحی مراکز سیاحتی صنعت کی بنیاد ہیں۔
اسی طرح قطر میں فٹبال ورلڈ کپ کے بعد سیاحتی انفرا اسٹرکچر میں تیزی سے توسیع ہوئی اور اس وقت یہ شعبہ تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔
بحرین میں بھی سیاحت اور مہمان نوازی سے وابستہ تقریباً 85 ہزار ملازمتیں ہیں۔
کویت میں سیاحتی شعبہ دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹا ہے، تاہم یہاں بھی تقریباً 60 ہزار افراد براہ راست ہوٹلوں، ریستورانوں، ٹریول کمپنیوں اور تفریحی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔
ان چاروں ممالک میں سیاحت سے وابستہ براہ راست ملازمتوں کی مجموعی تعداد تقریباً 12 لاکھ بنتی ہے، جبکہ فضائی سفر، ریستوران، ریٹیل تجارت اور دیگر معاون خدمات کو شامل کیا جائے تو کل متاثر ہونے والی ملازمتیں تقریباً 20 لاکھ تک پہنچ سکتی ہیں۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث کچھ بڑے سیاحتی شہروں میں پہلے ہی ہوٹل بکنگ اور فضائی سفر کی طلب میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر کئی سیاحتی ادارے مقامی سیاحت اور مقیم افراد کو متوجہ کرنے کے لیے خصوصی رعایتیں اور پیکیجز پیش کر رہے ہیں تاکہ بیرونی سیاحوں کی کمی کا کچھ ازالہ کیا جا سکے۔
سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ اور کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں مزید کمی ہو سکتی ہے، کیونکہ سیاحت کی صنعت عموماً سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کی سیاحتی صنعت ماضی میں بھی عالمی مالیاتی بحران اور کورونا وبا جیسے بڑے چیلنجز کے بعد تیزی سے بحال ہوئی ہے، تاہم اگر موجودہ جنگ طویل ہو گئی تو خطے کے ان شہروں میں جہاں معیشت کا بڑا حصہ بین الاقوامی سیاحت پر منحصر ہے، وہاں لاکھوں ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔