ماہر موسمیات اور قصیم یونیورسٹی کے سبق پروفیسر ڈاکٹر عبدالله المسند نے فرضی سائنسی جائزہ پیش کیا ہے جس میں بتایا گیا کہ اگر سعودی عرب اور جزیرۂ عرب میں 30 دن تک مسلسل بارش ہوتی رہے تو خطے میں کس قسم کی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی حقیقی موسمی پیش گوئی نہیں بلکہ سائنسی تصور ہے جس کا مقصد ممکنہ اثرات کو سمجھانا ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا ہے کہ ابتدا عام موسمی بارشوں سے ہو سکتی ہے لیکن اگر بارش طویل عرصے تک جاری رہے تو آسمان پر گھنے بادل چھا جائیں گے، سورج کی روشنی کم ہو جائے گی اور دن کے درجۂ حرارت میں واضح کمی ہوگی جبکہ مختلف شہروں میں درجۂ حرارت سردیوں جیسی سطح کے قریب پہنچ سکتا ہے اور شمالی پہاڑی علاقے میں سردی کی شدت بڑھ سکتی ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق اگر بارش 10 دن یا اس سے زیادہ جاری رہے تو مٹی پانی سے سیراب ہو جائے گی اور صحرائی زمین کی سیلابی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔
اس کے نتیجے میں بڑی وادیاں جیسے الرّمہ، الدواسر، تربہ، بیشہ، حنیفہ، السرحان اور الحمض طویل عرصے تک پانی سے بھر کر بہنے لگیں گی اور بعض مقامات پر موسمی دریا جیسا منظر پیش کریں گی۔
15 دن کے بعد صحرا میں نباتاتی تبدیلیاں بھی تیزی سے ظاہر ہو سکتی ہیں۔
کئی برسوں سے زمین میں موجود بیج اگنا شروع کر دیں گے اور صحرائی علاقوں میں سبزہ پھیل سکتا ہے۔
اس سے مٹی کی نمی بڑھے گی اور کنوؤں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔
یہ صورتحال زیرِ زمین آبی ذخائر کو بھرنے میں مدد دے سکتی ہے اور زراعت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے کیونکہ کسان زیادہ عرصے تک زمین کی قدرتی نمی پر انحصار کر سکیں گے اور آبپاشی کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں۔
ماہر موسمیات کے مطابق بارشوں کے دوران گرد و غبار کم ہونے سے ہوا صاف ہو جائے گی جس سے سانس کی الرجی اور آنکھوں کی خشکی جیسے مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔
اس کے ساتھ لوگ فطرت سے لطف اندوز ہونے کے لیے دیہی اور صحرائی علاقوں کی جانب زیادہ رخ کر سکتے ہیں۔
اقتصادی طور پر بھی اس کے مثبت اثرات ہو سکتے ہیں کیونکہ قدرتی چراگاہیں بہتر ہوں گی، مویشیوں کے لیے چارہ وافر ملے گا، دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے اور درآمدی چارے کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالله المسند نے اس تصور کو اس قدیم و جدید سوال سے بھی جوڑا کہ آیا جزیرۂ عرب دوبارہ سبز چراگاہوں اور دریاؤں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کا حوالہ دیا:
قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک جزیرۂ عرب دوبارہ سرسبز چراگاہوں اور دریاؤں والا نہ ہو جائے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ اس طرح کے فرضی سائنسی منظرنامے یہ دکھاتے ہیں کہ شدید اور مسلسل بارشیں زمین کے خدوخال کو عارضی طور پر کس طرح بدل سکتی ہیں اور یہ مستقبل میں ممکنہ وسیع تر موسمیاتی تبدیلیوں کی ایک جھلک بھی پیش کرتے ہیں، جن کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔