امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی کے ڈھانچے کے بارے میں ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اس کے بعد خطہ کس سمت جائے گا؟
مزید پڑھیں
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے آغاز سے پہلے بھی خطے کے مستقبل پر بحث جاری تھی، مگر اب یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
یہ صرف اتنی سی بات نہیں کہ جنگ کب ختم ہوگی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد خطے کا سیاسی اور اسٹریٹیجک نقشہ کیسا ہوگا۔
تاہم اس بحث سے پہلے ایک اور بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ یہ جنگ آخر شروع ہی کیوں ہوئی؟
جنگ کی اصل وجوہات: صرف جوہری پروگرام نہیں
کئی تجزیہ کار اس جنگ کو ایران کے جوہری پروگرام یا اسرائیل کے خلاف اس کے ممکنہ خطرات سے جوڑتے ہیں، خاص طور پر 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
دوسری جانب ایک گہرا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ مسئلہ صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ ایران کی سیاسی سوچ اور اس کی علاقائی حکمت عملی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
تقریباً 5 دہائیوں سے ایران کی سیاسی سوچ ایک ایسے نظریے کے گرد گھومتی رہی ہے جس میں انقلاب کو بیرونِ ملک پھیلانا ایک سیاسی منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ نظریہ آیت اللہ خمینی کے دور سے لے کر سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای تک جاری رہا اور اب امکان ہے کہ موجودہ رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کے دور میں بھی یہی سوچ برقرار رہے۔
پابندیوں اور عالمی تبدیلیوں کے باوجود پالیسی میں تسلسل
گزشتہ کئی دہائیوں میں ایران کو سخت معاشی پابندیوں، اقتصادی دباؤ اور بین الاقوامی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس سب کے باوجود ایرانی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی نظر نہیں آئی۔
اسی عرصے میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک نے اپنی ترجیحات کو تبدیل کرتے ہوئے ترقی، معاشی استحکام اور علاقائی تعاون کو ترجیح دینا شروع کیا۔
لیکن ایران کے لیے ترجیحی ترتیب ہمیشہ سے مختلف رہی، جہاں علاقائی اثر و رسوخ اور طاقت کے توازن کو ترقیاتی ایجنڈے سے زیادہ اہم سمجھا گیا۔
حالیہ جنگ میں غیر معمولی عسکری قوت کا مظاہرہ
حالیہ جنگ کے دوران خطے نے ایک غیر معمولی فوجی قوت کا مظاہرہ دیکھا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے 3 ہزار سے زیادہ میزائل اور ڈرون مختلف اہداف کی طرف داغے گئے۔ ان حملوں میں خلیجی ممالک، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم تنصیبات بھی نشانہ بنیں۔
یہ صورتحال اس لیے بھی حیران کن سمجھی گئی کیونکہ خلیجی ممالک نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہونے نہیں دیں گے۔
خلیجی ممالک کی مصالحتی پالیسی
گزشتہ برسوں میں خلیجی ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں بھی کی تھیں۔
مثال کے طور پر چین کی ثالثی میں ہونے والا بیجنگ معاہدہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا سبب بنا۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات کئی برسوں تک اقتصادی طور پر ایران کے لیے ایک اہم تجارتی دروازہ رہا، خاص طور پر اس وقت جب ایران پر بین الاقوامی پابندیاں عائد تھیں۔
قطر کے ایران سے تعلقات قریبی رہے ہیں، جبکہ عمان نے جوہری مذاکرات کے دوران ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔
خلیجی تنصیبات پر حملوں کی سیاسی منطق
ان حالات کے باوجود جنگ کے دوران خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا سیاسی اور اسٹریٹیجک لحاظ سے غیر متوقع سمجھا گیا۔
اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کو اب ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو خطے کی نئی حقیقتوں کو زیادہ عملی انداز میں سمجھ سکے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اکیسویں صدی میں طاقت کا معیار صرف فوجی صلاحیت یا میزائلوں کی تعداد نہیں رہا بلکہ معاشی استحکام، سیاسی نظم اور علاقائی تعاون بھی اتنے ہی اہم عوامل بن چکے ہیں۔
ایران کی معاشی صلاحیت اور ضائع شدہ مواقع
حقیقت یہ ہے کہ ایران قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور انسانی سرمایہ کے لحاظ سے ایک مضبوط ملک ہے۔ اس کے پاس توانائی کے بڑے ذخائر ہیں، ایک بڑی داخلی منڈی ہے اور وہ ایک اسٹریٹیجک تجارتی راستے پر واقع ہے۔
یہ تمام عوامل ایران کو مشرقِ وسطیٰ کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل کر سکتے تھے۔
تاہم کئی دہائیوں تک علاقائی اثر و رسوخ کی پالیسی کو اندرونی ترقی پر ترجیح دینے کے باعث یہ صلاحیت مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکی۔
جنگیں اور علاقائی نظام کی نئی تشکیل
موجودہ جنگ کو صرف ایک فوجی تنازع کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ یہ جنگ خطے کے اسٹریٹیجک ماحول کو ازسرِ نو تشکیل دینے کا نقطہ آغاز ثابت ہو۔
امریکی مورخ جان لوئس گیڈس کے مطابق بڑی جنگیں صرف تنازعات کو ختم نہیں کرتیں بلکہ وہ اس اسٹریٹیجک ماحول کو بھی تبدیل کر دیتی ہیں جس کے اندر ریاستیں کام کرتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کا اختتام ایک نئے علاقائی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
’نئے مشرقِ وسطیٰ‘ کا تصور
واشنگٹن میں ’نئے مشرقِ وسطیٰ‘ کی اصطلاح اکثر سنائی دیتی ہے۔ یہ کوئی نیا تصور نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے امریکی سیاسی مباحث کا حصہ رہا ہے۔
ہر بار جب خطہ کسی بڑے بحران یا تبدیلی سے گزرتا ہے تو یہ اصطلاح دوبارہ سامنے آ جاتی ہے۔
اس تصور کا بنیادی مقصد خطے میں طاقت کے توازن کو اس طرح ترتیب دینا ہے کہ علاقائی ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کے نیٹ ورکس قائم ہوں اور کھلی محاذ آرائی کم ہو۔
امریکی محقق کینتھ پولاک کے مطابق امریکا کی حکمت عملی بتدریج اس سمت بڑھ رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا علاقائی نظام قائم ہو جو اقتصادی شراکت داری اور مشترکہ سلامتی پر مبنی ہو۔
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ریاستی نظم و نسق کے 2 مختلف ماڈلز کے درمیان کھڑا نظر آتا ہے۔
پہلا ماڈل وہ ہے جو طاقت کے حصول کے لیے مسلسل تصادم، مسلح گروہوں کے نیٹ ورکس اور علاقائی اثر و رسوخ کی توسیع پر انحصار کرتا ہے۔
دوسرا ماڈل معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور علاقائی تعاون کے ذریعے اثر و رسوخ پیدا کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
تنازعات کے خاتمے کی ضرورت
اگر خطہ دوسرے ماڈل کی طرف بڑھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے کئی مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ ان میں سب سے اہم قدم جاری تنازعات کو ختم کرنا ہوگا، جن میں فلسطین اور اسرائیل کا مسئلہ سرِ فہرست ہے۔
اس تنازع کے حل کے بغیر خطے میں مکمل استحکام اور معمول کے تعلقات قائم کرنا مشکل ہوگا۔
مستقبل کا فیصلہ کون کرے گا؟
مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ دہائیوں کی سمت ابھی واضح نہیں ہے، لیکن ایک بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ خطہ ایک گہرے تبدیلی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
مستقبل میں وہ ممالک زیادہ اثر و رسوخ حاصل کریں گے جو صرف جنگ اور تنازع کو نہیں بلکہ معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور علاقائی تعاون کو اپنی پالیسی کا مرکز بنائیں گے۔