امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ فتح کا اعلان کر دیا ہے، لیکن زمینی حقائق اس دعوے سے کہیں زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں
سی این این کے بین الاقوامی سلامتی کے سینئر نمائندے نک پیٹن والش کے مطابق ٹرمپ کے بیانات میں بظاہر تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ جنگ میں کامیابی کا اعلان کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف کہتے ہیں کہ ایران کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنا ہوگا۔
یہ طرزِبیان امریکی عوام کو متاثر کرنے کے لیے تو کارگر ہو سکتا ہے، مگر میدانِ جنگ کی تلخ حقیقتوں کے سامنے اس کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔
جنگ میں کامیابی کھیلوں کی طرح نہیں ہوتی جہاں مقررہ وقت کے بعد فاتح کا اعلان کر دیا جائے۔ اصل چیلنج یہ ہوتا ہے کہ مخالف فریق کو واقعی شکست تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔
پرانا جال: تیز آپریشن سے فوری سیاسی نتائج کی توقع
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ اس وقت جدید جنگ کے ایک پرانے جال میں پھنسے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
ٹرمپ ایسا سوچ ہے جس کے تحت یہ سمجھا جاتا ہے کہ تیز اور درست فوجی کارروائی کے ذریعے فوری اور مستقل سیاسی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
تاریخ میں کئی مثالیں اس تصور کو غلط ثابت کر چکی ہیں۔
سوویت یونین نے افغانستان میں یہی سوچ اختیار کی تھی، امریکا نے 2003 میں عراق میں ایسا ہی کیا، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی یوکرین میں ایک تیز جنگ کی امید رکھتے تھے مگر جنگ طویل ہوتی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اس کے عوام اور فوج کے پاس اپنے ملک اور گھروں کے دفاع کے لیے زیادہ مضبوط محرک موجود ہوتا ہے، جو جنگ کو طویل اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
اسرائیلی معلومات اور امریکی مداخلت
تجزیے میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس جنگ میں تیزی سے قدم اٹھایا، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے علاقائی اہداف امریکا سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
نیتن یاہو طویل المدتی امریکی دباؤ کے ذریعے ایران کو بتدریج کمزور دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
تاہم 28 فروری کو ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل نے صورتحال کو آسان بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دیا۔
ایرانی قیادت میں تبدیلی اور طاقت کا خلا
خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران میں قیادت کا مسئلہ بھی پیدا ہوا، تاہم یہ وہ صورتحال نہیں تھی جس میں امریکا کسی متبادل قیادت کو فوری طور پر سامنے لا سکتا۔
مثال کے طور پر وینزویلا میں نیکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکی حمایت یافتہ قیادت سامنے لانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایران میں ایسا کوئی واضح متبادل موجود نہیں تھا۔
اس خلا کو ایران کے سخت گیر عناصر نے پُر کر دیا اور خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت کے منصب پر لایا گیا۔ ٹرمپ خود اس امکان کے مخالف تھے۔
یہ بھی واضح نہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای صحت کے لحاظ سے اتنے مستحکم ہیں کہ وہ براہِ راست قوم سے خطاب کر سکیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان کا پہلا پیغام ایک ٹی وی اینکر نے پڑھ کر سنایا۔
پاسداران انقلاب کا ردعمل اور انتقامی جذبہ
ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے اپنے رہنماؤں کے قتل کا بدلہ لینا ایک بنیادی ترجیح بن چکا ہے۔
اس ردعمل کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر امریکی صدر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور امریکی انٹیلی جنس قیادت کو قتل کر دیا جائے تو امریکی فوج بھی اسی طرح شدید ردعمل دکھائے گی۔
یہ انتقامی جذبہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔
صبر اور برداشت کا امتحان
جنگ کے صرف 2 ہفتوں کے اندر ایران نے اس تنازع کو ایک ایسے مرحلے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں اصل مقابلہ صبر اور برداشت کا ہے۔
امریکا مہینوں تک ایران پر فضائی حملے جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی مشکلات بھی جڑی ہوں گی۔
ان میں اہم فوجی ہتھیاروں کے ذخائر کا تیزی سے کم ہونا، نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے سیاسی دباؤ میں اضافہ اور امریکی فوجیوں کے ممکنہ جانی نقصان کا خطرہ شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران بھی مسلسل نقصان اٹھا رہا ہے۔ اس کے میزائل لانچر، ڈرون اڈے، فوجی اہلکار اور انفرا اسٹرکچر تباہ ہو رہے ہیں، لیکن امکان یہی ہے کہ اس کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی۔
پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کئی برسوں سے ایسے ہی حالات کے لیے تیاریاں کرتے رہے ہیں۔ ان کے پاس وسائل کم ہو سکتے ہیں مگر لڑنے کا عزم ختم نہیں ہوگا۔
فضائی طاقت کی حدود
امریکی فضائی طاقت دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوتوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن اس کی بھی کچھ حدود ہیں۔
یہ طاقت کسی ملک کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کر سکتی ہے یا قیادت کو نشانہ بنا سکتی ہے، مگر صرف فضائی حملوں کے ذریعے کسی حکومت کو اپنا طرزِ عمل بدلنے پر مجبور کرنا یا مکمل نظام تبدیل کر دینا آسان نہیں ہوتا۔
وقت گزرنے کے ساتھ فضائی حملوں کے اثرات کم ہو سکتے ہیں اور شہری ہلاکتوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے کیونکہ فوجی اہداف کم ہوتے جاتے ہیں اور شہری ڈھانچے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔
ایران کی جوابی حکمت عملی
ایران کے لیے جنگ کا حساب مختلف انداز میں کیا جا رہا ہے۔ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنا کر عالمی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے اور تیل کی قیمت کو 100 ڈالر سے اوپر رکھ سکتا ہے۔
اس طرح عالمی معیشت دباؤ میں آ سکتی ہے اور دنیا بھر میں یہ بحث شروع ہو سکتی ہے کہ ٹرمپ کو اس صورتحال کا اندازہ ہونا چاہیے تھا۔
ایرانی میزائل حملے کم بھی ہو جائیں تو بھی ان کا جاری رہنا ہی ایران کے لیے ایک طرح کی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کی جنگ ختم کرنے کی خواہش
ٹرمپ اب مسلسل جنگ کے خاتمے اور فتح کے بیانات دے رہے ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اس تنازع کو جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم جنگی حالات میں پیغام رسانی کی اہمیت ہوتی ہے اور جب کوئی رہنما بار بار اختتام کی بات کرے تو دشمن کو یہ پیغام بھی مل جاتا ہے کہ سامنے والا فریق لڑائی ختم کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی قیادت کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں صرف وقت گزارنا ہے اور ثابت قدم رہنا ہے تاکہ وہ شکست سے بچ سکیں۔
ممکنہ انجام
ابھی یہ جنگ صرف دو ہفتوں پر محیط ہے اور اسے طویل جنگ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ امکان ہے کہ آنے والے ہفتوں میں خفیہ سفارت کاری یا شدید جنگی دباؤ کے باعث تشدد میں بتدریج کمی آ جائے۔
ایسی صورت میں دونوں فریق اپنے اپنے انداز میں کامیابی کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
جنگ کے بعد کا منظرنامہ
اگر جنگ کم بھی ہو جاتی ہے تو ایران کا نظام ممکنہ طور پر دوبارہ منظم ہو کر پہلے سے زیادہ سخت موقف اختیار کر سکتا ہے۔
ایرانی قیادت اس نتیجے پر پہنچ سکتی ہے کہ امریکا کی بڑی فوجی طاقت ان کے رہنماؤں کو قتل اور فوج کو نقصان تو پہنچا سکتی ہے، مگر حکومت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔
روس اور چین جیسے ممالک ایران کو دوبارہ کھڑا ہونے میں مدد دے سکتے ہیں، اگرچہ وہ اسے سپر پاور نہیں بنائیں گے مگر اتنی طاقت ضرور فراہم کریں گے کہ وہ مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کر سکے۔
مستقبل میں نئی کشیدگی کا امکان
ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کو دوبارہ ایران کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی پر غور کرنا پڑے۔
ایران بھی ممکنہ طور پر ایسی حکمت عملی اختیار کرے گا جس میں وہ امریکا کو وقتاً فوقتاً اشتعال دلاتا رہے، مثلاً سائبر حملوں یا تخریبی کارروائیوں کے ذریعے، مگر مکمل جنگ سے گریز کرے۔
یہ حکمت عملی کسی حد تک روس اور یوکرین کے تنازع میں نظر آنے والی غیر روایتی جنگی تکنیکوں سے ملتی جلتی ہو سکتی ہے۔
امریکی صدور اور جنگ کے فیصلے
امریکی تاریخ میں جنگ شروع کرنے کا فیصلہ ہمیشہ سب سے خطرناک سیاسی اور عسکری قدم سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ اس معاملے میں پہلے رہنما نہیں جنہوں نے ایسے فیصلے کیے ہوں۔
جارج ڈبلیو بش نے 2 بڑی جنگیں شروع کیں، باراک اوباما نے افغانستان میں زیادہ فوجی دباؤ ڈال کر کامیابی کی امید کی، جبکہ جو بائیڈن کے دور میں افغانستان سے انخلا کی افراتفری نے امریکی حکمت عملی کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا۔
ایک مشکل توازن
صرف 12 دن کے اندر ٹرمپ نے ایسی فتح کا اعلان کر دیا جسے نہ تو مکمل طور پر حاصل کیا گیا ہے اور نہ ہی مخالف فریق نے تسلیم کیا ہے۔
اب انہیں ایک مشکل توازن قائم کرنا ہے۔ ایک طرف انہیں خود کو فاتح ظاہر کرنا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران اپنی مزاحمت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
موجودہ حالات میں ایسا لگتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا کوئی فوری اور واضح راستہ موجود نہیں اور شاید وقتی طور پر صرف انتظار ہی واحد حکمت عملی بن کر رہ گئی ہے۔