انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر کے معاشروں کو بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں اب بچے بھی بڑی تعداد میں ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بن چکے ہیں اور ان کی آن لائن موجودگی ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکی ہے۔
مزید پڑھیں
تاہم اس تبدیلی کے ساتھ کئی سنگین خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ بچوں کو آن لائن پلیٹ فارمز پر سائبر بُلنگ، ڈیجیٹل فراڈ، مشکوک رابطوں اور سائبر استحصال جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ والدین، ماہرین اور حکومتیں مسلسل اس بات پر غور کررہے ہیں کہ کم عمر صارفین کو کس طرح محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کیا جائے۔
اسی پس منظر میں ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے واٹس ایپ میں ایک نئی قسم کے اکاؤنٹس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو خصوصی طور پر 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
اس اقدام نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا یہ نظام واقعی بچوں کے لیے مضبوط ڈیجیٹل حفاظتی دیوار ثابت ہو سکے گا یا نہیں۔
بچوں کے لیے محفوظ ماحول
عرب سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسٹڈیز میں مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی یونٹ کے سربراہ محمد محسن رمضان کے مطابق واٹس ایپ کا یہ اقدام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی سیکیورٹی پالیسیوں میں ایک اہم اور اسٹریٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
عرب میڈیا اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نئے نظام کا بنیادی مقصد بچوں کے لیے ایک زیادہ محفوظ رابطے کا ماحول فراہم کرنا ہے، جس میں والدین کو براہِ راست نگرانی کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس فیچر کے ذریعے بچوں کے لیے واٹس ایپ کے استعمال کا نیا تجربہ ترتیب دیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل دنیا اور زیادہ محفوظ ہو۔ اسی مقصد کے تحت کئی فیچرز کو محدود یا مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر چینلز اور اسٹیٹس جیسی سہولتیں بچوں کے اکاؤنٹس میں دستیاب نہیں ہوں گی، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون میٹا اے آئی کو بھی غیر فعال رکھا جائے گا تاکہ کم عمر صارفین ابتدائی عمر میں مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کے ساتھ براہِ راست نہ ہوں۔
اکاؤنٹ کے لیے ڈبل ویری فکیشن سسٹم
محمد محسن رمضان کے مطابق اس نئے اکاؤنٹ کے قیام کے لیے ایک خاص تصدیقی نظام متعارف کرایا گیا ہے جسے ڈبل ویری فکیشن کہا جا رہا ہے۔
اس طریقہ کار کے تحت بچے کا موبائل فون والدین کے فون کے ساتھ ایک QR کوڈ اسکین کر کے منسلک کیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی بچہ والدین کی منظوری کے بغیر واٹس ایپ اکاؤنٹ نہ بنا سکے۔
یہ نظام والدین کو وسیع نگرانی کے اختیارات بھی فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر بچہ کسی نئے رابطے کو شامل کرے یا کسی نمبر کو بلاک کرے تو والدین کو فوری اطلاع مل سکتی ہے۔
اسی طرح نئی چیٹ ریکوئسٹ موصول ہونے یا اکاؤنٹ کے نام اور پروفائل تصویر میں تبدیلی کی صورت میں بھی والدین کو آگاہ کیا جائے گا۔
محسن رمضان کے مطابق یہ ماڈل ’مشترکہ ڈیجیٹل نگرانی‘ کی ایک مثال ہے جس میں ذمہ داری صرف پلیٹ فارم پر نہیں بلکہ خاندان کے ساتھ بھی تقسیم کی جاتی ہے۔
سکیورٹی سیٹنگز کے لیے خصوصی پن کوڈ
نئے نظام میں والدین کے کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
نگرانی سے متعلق تمام سیٹنگز کو ایک خصوصی 6 ہندسوں کے پن کوڈ کے ذریعے محفوظ کیا جائے گا، جس تک رسائی صرف والدین کو حاصل ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام پابندیوں کے باوجود واٹس ایپ نے واضح کیا ہے کہ بچوں کے اکاؤنٹس میں بھی چیٹس مکمل طور پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ذریعے محفوظ رہیں گی۔
اس کا مطلب ہے کہ گفتگو کی رازداری برقرار رہے گی۔
ماہرین کے مطابق بچوں کے لیے ٹیکنالوجی ڈیزائن کرتے وقت سب سے بڑا چیلنج یہی ہوتا ہے کہ رازداری اور والدین کی نگرانی کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
محمد محسن رمضان کا کہنا ہے کہ چاہے ٹیکنالوجی کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، یہ کبھی بھی ڈیجیٹل شعور اور درست تربیت کی جگہ نہیں لے سکتی۔
اجنبی رابطوں سے بچاؤ
مصر کی وزارت داخلہ کے سابق اسسٹنٹ وزیر برائے تعلقات عامہ و میڈیا ابو بکر عبد الکریم کے مطابق اس نئے نظام میں کئی اضافی حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں جن کا مقصد بچوں کو نامعلوم افراد کے رابطوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر کسی نامعلوم نمبر سے پیغام موصول ہو تو ایپ صارف کو بھیجنے والے ملک کی معلومات اور مشترکہ گروپس کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
اس کے علاوہ اجنبی افراد کی طرف سے آنے والی تصاویر کو خودکار طور پر دھندلا کر دکھایا جائے گا تاکہ بلیک میلنگ یا نامناسب مواد کے خطرات کم کیے جا سکیں۔
اسی طرح نامعلوم نمبروں کی کالز کو خاموش کرنے کا آپشن بھی دیا گیا ہے تاکہ بچے غیر ضروری یا مشکوک رابطوں سے محفوظ رہ سکیں۔
چیٹ ریکویسٹ اور گروپ لنکس کے لیے الگ فولڈر
نئے واٹس ایپ سسٹم میں چیٹ ریکویسٹ اور گروپ لنکس کو ایک الگ فولڈر میں منتقل کیا جائے گا۔ یہ فولڈر صرف والدین کے کوڈ کے ذریعے کھولا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ اگر بچہ کسی گروپ میں شامل ہونا چاہے تو پہلے اس گروپ کے بارے میں تفصیلی معلومات ظاہر کی جائیں گی تاکہ والدین فیصلہ کر سکیں کہ بچے کو اس میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔
بچوں کی آن لائن حفاظت
ماہرین کے مطابق بچوں کے لیے واٹس ایپ کا یہ اقدام ایک وسیع عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اس وقت کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین پر غور کر رہے ہیں۔
یورپ میں برطانیہ، جرمنی، اسپین اور ڈنمارک سمیت کئی ممالک ایسے قوانین پر بحث کر رہے ہیں جن کے تحت بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کی حفاظت صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومتوں، معاشروں اور والدین سب کو مشترکہ طور پر اس میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
ٹیکنالوجی اور تربیت کا مشترکہ کردار
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اصل تحفظ تب ہی ممکن ہے جب والدین اور معاشرہ بچوں کو ڈیجیٹل شعور فراہم کریں۔