اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

جنگ کا تیرہواں دن: ٹرمپ کا اعلانِ فتح، ایران کا حملوں سے جواب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ تیرہویں روز میں داخل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں پورا خطہ بدترین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ میں جاری اس تنازع نے نہ صرف ایران اور اسرائیل کو براہِ راست آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے بلکہ لبنان، خلیجی ریاستوں اور عراق تک اس کے اثرات پھیل چکے ہیں۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ میں ’فتح‘ کا اعلان ایک نئی بحث اور کشیدگی کا سبب بن گیا ہے۔

ایران نے ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لڑائی 

ابھی ختم نہیں ہوئی اور اس نے میزائل، ڈرون اور بحری کارروائیوں کے ذریعے جواب دینا شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب جنگ کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی منڈیاں بھی شدید دباؤ میں ہیں۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں

ٹرمپ کا اعلانِ فتح اور ایران کا ردعمل

us centcom attack iranian ship jamaran
(فوٹو: امریکی سینٹ کام، بذریعہ عالمی میڈیا)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست کینٹکی میں ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ میں ’ابتدائی لمحوں ہی سے کامیابی حاصل کر لی تھی‘۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے 58 جنگی بحری جہازوں کو تباہ کر دیا ہے۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر کڑی نظر رکھے گا اور اس وقت تک علاقے سے نہیں نکلے گا جب تک ’مشن مکمل نہیں ہو جاتا‘۔

دوسری جانب تہران نے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے جنگ ختم ہونے سے پہلے سیاسی دعوے مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا۔

ایران نے جواباً بحری اور میزائل حملوں کا آغاز بھی کیا، جس میں اس نے تیل کی تنصیبات اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں پاسداران انقلاب نے جمعرات کو اعلان کیا کہ خلیج میں جزائر مارشل کے پرچم والے ایک جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

تیل بردار جہازوں پر حملے اور عالمی منڈی میں ہلچل

hurmuz strait ship attacked
(فائل فوٹو: انٹرنیٹ)

جنگ کے تیزی سے بڑھتے ہوئے تناظر میں اب توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری نقل و حمل کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی دوران عراق کے پانیوں میں 2 ایندھن بردار ٹینکروں میں آگ بھڑک اٹھی، جہاں ایرانی حملے میں تیل اور نقل و حمل کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں جہاز کے عملے کا ایک رکن بھی ہلاک ہو گیا۔

میری ٹائم سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بارودی مواد سے لیس ایرانی کشتیوں نے دونوں ٹینکروں پر حملہ کیا، جبکہ خلیج عرب کے پانیوں میں 4 دیگر تجارتی جہازوں پر بھی گولے داغے گئے۔

ایران نے اسی دوران خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں تیزی

brent oil
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

جنگ میں شدت کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں میں بھی نظر آئے، جہاں تیل کی قیمت اچانک بڑھ کر تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، تاہم ایشیائی منڈیوں میں بعد ازاں یہ قیمت 100 ڈالر سے کچھ اوپر آ گئی۔

صورتحال کو سنبھالنے کے لیے بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے عالمی اسٹریٹیجک ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کی سفارش کی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام 1970ء کی دہائی کے تیل بحران کے بعد سب سے بڑا ہنگامی قدم سمجھا جا رہا ہے۔

اُدھر امریکی وزیر توانائی نے بھی اعلان کیا ہے کہ امریکا اگلے ہفتے سے اپنے اسٹریٹیجک ذخیرے سے 172 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں جاری کرے گا، جبکہ کئی یورپی ممالک نے بھی اپنے ذخائر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے مابین میزائلوں کا تبادلہ

irani missile
(فوٹو: انٹرنیٹ)

میدانِ جنگ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ایک نیا میزائل حملہ شروع کر دیا گیا ہے۔

اسی دوران یروشلم اور وسطی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جہاں ایران سے تل ابیب اور یروشلم کی جانب میزائل داغے گئے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اُدھر ایران نے دعویٰ کیا کہ اس کے حملوں میں اسرائیل کے اندر کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں پالمخیم اور عویدا کے فضائی اڈے اور اسرائیلی سیکیورٹی ادارے شاباک کا ہیڈکوارٹر شامل ہیں۔

جواباً اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ایران بھر میں وسیع پیمانے پر فضائی حملےکیے ہیں جن کا ہدف حکومتی ڈھانچے اور عسکری تنصیبات تھیں۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں کا دائرہ وسیع

israel attack lebanon iran war 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

علاوہ ازیں اسرائیل نے شمالی محاذ پر بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ جنوبی لبنان کے ضلع النبطیہ میں واقع قصبوں رشاف، یاطر اور وقعقعیہ الجسر پر فضائی حملے کیے گئے۔

اس کے علاوہ ایک اسرائیلی ڈرون نے تولین نامی قصبے کے اطراف میں بھی حملہ کیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں حزب اللہ کے میزائل لانچر، اسلحہ گودام اور دیگر عسکری مقامات تباہ کیے گئے ہیں۔

اسرائیل نے مشرقی لبنان کے گاؤں قصرنبا میں ایک عمارت کو نشانہ بنانے کی پیشگی وارننگ بھی جاری کی۔

خلیجی ممالک میں ڈرون حملے

iran attack in behrain
(فوٹو: انٹرنیٹ)

جنگ کے اثرات خلیجی ممالک تک بھی پہنچ گئے ہیں، جہاں دبئی کے وسطی علاقے میں واقع خور دبئی بندرگاہ کے قریب ایک عمارت پر ڈرون گرنے سے دھماکا ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسی طرح کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کے باعث معمولی نقصان ہوا۔ کویتی وزارت بجلی کے مطابق دفاعی کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے کے باعث بجلی کی 6 ٹرانسمیشن لائنیں بند ہو گئیں۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کے قریب ایک جاپانی کنٹینر جہاز کو نقصان پہنچا جبکہ متحدہ عرب امارات کے قریب ایک اور تجارتی جہاز کو نامعلوم میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

توانائی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں

salala port oman attack in fuel tanks
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اس جنگ نے خلیج کی توانائی تنصیبات کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بحرین نے اطلاع دی کہ المحرق میں واقع ایک ایندھن کے ذخیرے کے مقام پر قائم ٹینک حملے کی زد میں آئے ہیں۔

عمان کے صلالہ بندرگاہ میں تیل ذخیرہ کرنے والی تنصیبات پر بھی ڈرون حملہ ہوا جبکہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی۔

عراق میں اطالوی فوجی اڈے پر حملہ

خطے میں جاری جنگ کا دائرہ عراق تک بھی پھیل گیا ہے۔ اٹلی کی وزارت دفاع کے مطابق کردستان کے شہر اربیل میں واقع ایک اطالوی فوجی اڈے پر رات کے وقت راکٹ حملہ کیا گیا۔

اگرچہ اس حملے میں کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا، تاہم یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں موجود بین الاقوامی فوجی تنصیبات بھی اس تنازع کی لپیٹ میں آ سکتی ہیں۔

آبنائے ہرمز: عالمی توانائی کی شہ رگ خطرے میں

strait of hurmuz
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے مکمل کنٹرول میں ہے اور اس نے عملی طور پر یہاں جہاز رانی کو محدود کر دیا ہے۔

اس صورتحال کے بعد جی سیون ممالک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ تجارتی جہازوں کو فوجی حفاظتی اسکواڈ فراہم کیے جائیں۔

اُدھر بھارت سے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایران ممکنہ طور پر بھارتی پرچم والے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے سکتا ہے، تاہم ایک ایرانی ذریعے نے اس خبر کی تردید کی ہے۔

عالمی ردعمل اور سفارتی سرگرمیاں

جنگ کے پھیلتے اثرات نے عالمی طاقتوں کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ چین نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا استحکام اور سلامتی عالمی مفاد ہے اور اسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔

اسی دوران آسیان ممالک نے اپنے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اس کے معاشی اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

دریں اثنا ایک روسی سفارتی نمائندے نے بھی امریکی حکام سے ملاقات کر کے جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران پر تبادلہ خیال کیا۔

انسانی جانوں کا نقصان اور بحران

tehran attacked 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق مختلف علاقوں میں بمباری اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 1100 سے زیادہ بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

ایران کے صنعتی مراکز پر فضائی حملے

جنگ میں ایران کے اندر بھی صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں صوبہ مرکزی کے شہر اراک کے صنعتی علاقے میں فضائی حملے کے نتیجے میں 6 پیداواری یونٹس کو نقصان پہنچا اور 7 افراد زخمی ہوئے۔

یہ حملے ایران کے صنعتی اور اقتصادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی حکمت عملی کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس تجزیہ: ایرانی مستحکم

the pentagon
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق شدید فوجی اور معاشی دباؤ کے باوجود ایرانی حکومت کا ڈھانچہ اب بھی مستحکم ہے اور فوری طور پر اس کے گرنے کے آثار نظر نہیں آتے۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت اب تک داخلی صورتحال پر قابو رکھے ہوئے ہے۔

جنگ کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے

امریکی حکام کے مطابق جنگ کے ابتدائی 6 دنوں میں امریکا کو تقریباً 11.3 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے۔ یہ اعداد و شمار سینیٹ کے اراکین کو دی گئی ایک خفیہ بریفنگ میں سامنے آئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر جنگ جاری رہی اور اس کا دائرہ مزید پھیلا تو اس کی مجموعی لاگت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

خطے میں طویل جنگ کا خدشہ

iran israel war
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

تیرہ دن گزرنے کے بعد واضح ہو چکا ہے کہ یہ تنازع صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

ایک طرف واشنگٹن ابتدائی کامیابی کا دعویٰ کر رہا ہے تو دوسری جانب تہران میزائل حملوں اور توانائی کی منڈیوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ جنگ خطے کی طاقت کے توازن کو کئی برسوں کے لیے بدل سکتی ہے اور عالمی توانائی، تجارت اور سلامتی کے نظام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔