امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ہی اپنے اختتام کو پہنچے گی کیونکہ اب عملی طور پر ایران کے اندر ایسی کوئی بڑی چیز باقی نہیں بچی ہے جسے امریکہ عسکری طور پر نشانہ بنا سکے۔
مزید پڑھیں
ویب سائٹ ’ایکسیس‘ کو دیے گئے 5 منٹ دورانیے کے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اب وہاں صرف اِدھر اُدھر بکھری ہوئی چھوٹی موٹی چیزیں ہی رہ گئی ہیں اور وہ جب چاہیں گے اس مہم کو ختم کر دیں گے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ عسکری مہم نے اپنے اہداف بڑے پیمانے پر حاصل کر لیے ہیں، لیکن ’ایکسیس‘ نے امریکی اور اسرائیلی
حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ تاحال کسی کو بھی جنگ بندی سے متعلق کوئی مخصوص اندرونی ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
اس کے برعکس اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کسی بھی وقت کی حد کے بغیر اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کر لیے جاتے اور فتح فیصلہ کن نہیں ہو جاتی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی و اسرائیلی حکام ایران میں مزید 2 ہفتوں تک بمباری جاری رکھنے کی تیاری میں ہیں۔
منگل کے روز موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات سے پتا چلا ہے کہ ایران نے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھنے والے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دی ہیں۔
اگرچہ ان بارودی سرنگوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں لیکن صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی حملوں نے بارودی سرنگیں بچھانے والی 16 ایرانی کشتیوں کو تباہ کر کے اس منصوبے کو خاک میں ملا دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی فوج کا مشن ایران کی اس قوت کو ختم کرنا ہے جس سے وہ جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی جنگی طاقت بڑھ رہی ہے جبکہ ایرانی صلاحیتیں زوال پذیر ہیں جس کا ثبوت ان کے میزائل حملوں میں آنے والی شدید کمی ہے۔
دریں اثنا صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ مہم شیڈول سے بہت آگے ہے اور ایران کو اب ان کے 47 سالہ تباہی کے دور کا حساب دینا ہوگا کیونکہ یہ بدلے کا وقت ہے اور وہ بچ نہیں سکیں گے۔
اُدھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور فوج نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنی پوری طاقت سے جنگ جاری رکھیں گے اور جب تک ملک سے جنگ کا خطرہ ٹل نہیں جاتا وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایرانی فوج نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے سپاہی ملک کی آزادی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔