امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا آ بارہواں روز تھا اور گزشتہ شب کو اس تنازع کی اب تک کی خونریز ترین اور خوفناک ترین رات قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
مشرقِ وسطیٰ کے طول و عرض میں میزائلوں اور ڈرونز کے تبادلے نے جہاں لاکھوں انسانوں کو بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا، وہیں اب اس جنگ کے اثرات عالمی توانائی کی سپلائی اور اقتصادی مراکز تک پہنچ چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے اپنی حکمت عملی بدلتے ہوئے اب معاشی اور بینکنگ سیکٹر کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
میزائلوں کی 37ویں لہر: اسرائیل و امریکی اڈوں پر بڑا حملہ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کے روز اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرونز کی 37ویں لہر داغنے کا اعلان کیا اور تقریباً 3 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس حملے کو جنگ کا شدید ترین مرحلہ قرار دیا گیا۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے قطر میں امریکہ کے العدید اڈے اور کردستان عراق میں الحریر بیس کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں الظفرہ اور بحرین میں الجفیر بحری اڈے پر ڈرون حملے کیے گئے۔
اسرائیل میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب میزائلوں کے خوف سے لاکھوں شہری پناہ گاہوں میں محصور ہو گئے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق دفاعی نظام نے متعدد میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے، تاہم دھماکوں کی آوازوں سے پورا خطہ گونجتا رہا۔
مجتبیٰ خامنہ ای مبینہ طور پر زخمی
ایک انتہائی اہم سیاسی و عسکری پیش رفت میں ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے انٹیلی جنس رپورٹس کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای حالیہ فضائی حملوں میں معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے ان کا منظرِ عام سے غائب رہنا اسی زخمی ہونے کی تصدیق ہو سکتی ہے، تاہم تہران کی جانب سے اب تک ان کے زخمی ہونے کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید۔
خلیجی ریاستوں پر حملے ، دبئی ایئرپورٹ پر نقصان
ایران نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ خلیجی ممالک کی شہری تنصیبات تک پھیلا دیا ہے، جہاں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب 2 ڈرونز گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسی طرح بحرینی حکام کے مطابق اب تک 106 میزائل اور 177 ایرانی ڈرونز کو تباہ کیا جا چکا ہے۔
اُدھر قطر نے میزائل حملے کے بعد سیکیورٹی الرٹ ہائی کر دی تھی، جسے اب نارمل کر دیا گیا ہے، جبکہ کویت کے نیشنل گارڈز نے حساس تنصیبات کے قریب 8 ایرانی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
ایران کا داخلی محاذ
دوسری جانب ایران کے اندرونی حالات بھی انتہائی کشیدہ ہیں۔
پولیس چیف احمد رضا رادان نے دو ٹوک وارننگ دی ہے کہ جو کوئی بھی دشمن (امریکہ و اسرائیل) کی ایما پر احتجاج کے لیے سڑکوں پر آئے گا، اسے دشمن تصور کیا جائے گا اور اس کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
علاوہ ازیں ایرانی انٹیلی جنس نے دشمن کے لیے جاسوسی کے شبہے میں درجنوں افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے، جس کا مقصد ممکنہ داخلی بغاوت کو روکنا ہے۔
انسانی المیہ اور جانی نقصان
28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ سے دونوں جانب بڑے نقصانات ہوئے ہیں۔
ایرانی رپورٹس کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں میں اب تک 1300 سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور ہزاروں گھر و تجارتی مراکز کھنڈر بن چکے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک 13 افراد ہلاک اور 2000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ انفرا اسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
معاشی بحران اور عالمی تجارت
جنگ کے نتیجے میں ’آبنائے ہرمز‘ (Strait of Hormuz) عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی شپنگ کمپنی ’ميرسک‘ (Maersk) کے سی ای او ونسنٹ کلیر کے مطابق ان کے 10 بحری جہاز اس وقت خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔
انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر آج جنگ بندی ہو بھی جائے، تب بھی نظام کو معمول پر آنے میں کم از کم 10 دن لگیں گے۔ جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان پر حملے بند نہیں ہوتے، وہ خلیج سے تیل کی ترسیل نہیں ہونے دیں گے۔
سیاسی کوششیں اور عالمی ردِعمل
بحران پر قابو پانے کے لیے گروپ 7 (G7) کے ممالک کا ہنگامی ویڈیو اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے رابطہ کر کے خطے کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اس کے علاوہ برطانیہ اور امریکہ بھی علاقائی سلامتی کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں، تاہم فی الحال محاذوں پر جنگ کی شدت میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔