اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

پرندوں کی سالانہ ہجرت اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے لیے چیلنج بن گئی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کروڑوں پرندے آئندہ ہفتوں میں اسرائیل کی فضائی حدود سے گزریں گے (فوٹو: سبق

موسمِ بہار کے آغاز کے ساتھ ہی افریقہ سے یورپ اور مغربی ایشیا کی جانب ہجرت کرنے والے کروڑوں پرندے آئندہ ہفتوں میں اسرائیل کی فضائی حدود سے گزریں گے، جسے ماہرین کے مطابق دنیا کے اہم ترین ہجرتی راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 

عبرانی خبر رساں ویب سائٹ Walla News کے مطابق موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران یہ قدرتی مظہر اسرائیلی فوج کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق ماہرین کا اندازہ ہے کہ مارچ اور اپریل کے دوران کروڑوں پرندوں کے بڑے بڑے غول اسرائیلی فضائی حدود سے گزریں گے، جن میں سفید لق لق، ہنس، سرمئی کرین اور مختلف شکاری پرندے شامل ہیں۔ 

یہ پرندے اکثر انہی بلندیوں پر پرواز کرتے ہیں جہاں فوجی اور مسافر طیارے بھی پرواز کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بڑے پرندوں سے ٹکراؤ کا خطرہ فضائیہ کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ تیز رفتار طیارے اگر کسی بڑے پرندے سے ٹکرا جائیں تو اس سے طیارے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور پائلٹ کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ 

ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں

اسی وجہ سے اسرائیلی فضائیہ گزشتہ برسوں سے بہار اور خزاں کے موسم میں پرندوں کی ہجرت کے دوران بعض فضائی راستوں سے گریز کرتی رہی ہے، جس سے بعض اوقات فوجی پروازوں پر پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

97899
کروڑوں پرندے اسرائیلی فضائی حدود سے گزریں گے (فوٹو: سبق)

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض اوقات پرندوں کے بڑے غول ریڈار اسکرین پر نامعلوم یا مشتبہ اہداف کی صورت میں نظر آتے ہیں، جس کے باعث انہیں ابتدا میں ڈرون یا دشمن کے فضائی اہداف سمجھ لیا جاتا ہے۔ 

ماضی میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جب طیارہ شکن فائر غلطی سے پرندوں کے غول کی طرف کر دیا گیا۔

45644
پرندوں کے بڑے غول ریڈار پر مشتبہ اہداف کی صورت میں نظر آتے ہیں (فوٹو: سبق)

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے درمیان پرندوں کی ہجرت کا عروج فضائی کارروائیوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ آسمان میں پرندوں کے بڑے غول جنگی طیاروں کو اپنے راستے تبدیل کرنے یا بعض اوقات سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔