سعودی عرب میں آج بدھ 11 مارچ 2026 کو یومِ پرچم منایا جائے گا۔
یہ وہ تاریخی دن ہے جب بانیِ مملکت شاہ عبد العزيز بن عبدالرحمن آل سعود نے 11 مارچ 1937 کو سعودی پرچم کو اس کی موجودہ علامتی معنویت کے ساتھ سرکاری طور پر منظور کیا تھا، جو توحید، عدل، قوت، ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے۔
مزید پڑھیں
عاجل ویب سائٹ کے مطابق اس دن کے ذریعے سعودی ریاست کی تاریخ میں جڑی ہوئی قومی اقدار اور معانی اجاگر کیے جاتے ہیں۔
پرچم کے وسط میں درج کلمۂ توحید امن اور اسلام کے پیغام کی نمائندگی کرتا ہے جس پر یہ ریاست قائم ہوئی جبکہ تلوار قوت، عدل اور امن کی علامت ہے۔ سبز رنگ ترقی اور خوشحالی جبکہ سفید رنگ امن اور پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
سعودی پرچم ملک کے اتحاد کی جد و جہد کا گواہ رہا ہے اور شہری اسے عزت و وقار کی علامت کے طور پر بلند رکھتے ہیں۔
یہ ریاست کی قوت، خود مختاری اور قومی اتحاد کی نمایاں علامت ہے، اسی لیے اسے کبھی بھی سرنگوں نہیں کیا جاتا۔
اسی تاریخی دن کی مناسبت سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزيز آل سعود نے یکم مارچ 2023 کو شاہی فرمان جاری کیا جس کے تحت ہر سال 11 مارچ کو باقاعدہ طور پر ’یومِ پرچم‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔
سعودی پرچم کی تاریخ
سعودی قومی پرچم کی تاریخ 1727 میں ریاستِ سعودی کے قیام سے جڑی ہوئی ہے، جب سبز رنگ کا مربع پرچم اختیار کیا گیا جس کے وسط میں کلمۂ طیبہ درج تھا۔
بعد ازاں 1902 میں شاہ عبد العزیز نے اسی پرچم کو برقرار رکھا، جس میں ابتدا میں دو تلواریں شامل کی گئیں اور بعد میں انہیں ایک افقی تلوار سے تبدیل کر دیا گیا۔
بالآخر 1937 میں موجودہ شکل کو باضابطہ طور پر منظور کیا گیا۔
بعد کے برسوں میں پرچم سے متعلق کئی قوانین اور ضابطے متعارف کروائے گئے، جن میں 1937 میں مجلسِ شوریٰ کا فیصلہ، 1952 میں پرچم کے سائز سے متعلق ضابطے اور 1973 میں شاہی فرمان کے ذریعے پرچم کا باضابطہ نظام شامل ہے۔
بعد میں 1978 میں اس کی انتظامی ہدایات اور 1987 میں قومی پرچم کی معیاری خصوصیات بھی مقرر کی گئیں۔
اسی طرح 1992 میں بنیادی نظامِ حکومت میں یہ واضح کیا گیا کہ سعودی پرچم سبز رنگ کا ہوگا، جس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے دو تہائی کے برابر ہوگی، اس کے وسط میں خطِ ثلث میں کلمۂ طیبہ اور اس کے نیچے ایک تلوار ہوگی اور یہ پرچم کبھی سرنگوں نہیں کیا جائے گا، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے دیگر قومی پرچموں سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔