مسجد نبوی کے مرکزی دروازوں میں شمار ہونے والا ’باب السلام‘ زائرین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ وہی راستہ ہے جسے استعمال کرتے ہوئے عاشقانِ رسول روضۂ نبی اور آپﷺ کے رفقا پر حاضری دینے کے لیے گزرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ دروازہ مسجد نبوی کے اندر زائرین کی نقل و حرکت کا ایک مرکزی راستہ تصور کیا جاتا ہے جہاں سے ہر روز ہزاروں افراد اپنی عبادات اور زیارت کے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔
مسجد نبوی کے عمارتی امور کے ڈائریکٹر فارس الجربا کے مطابق باب السلام مسجد کی جنوبی سمت میں واقع ہے۔
اس دروازے کی منفرد اور خاص حیثیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ یہ
زائرین کو براہِ راست مسجد کے بیرونی صحن اور ارد گرد موجود دیگر سہولیات تک رسائی فراہم کرتا ہے، جس سے زائرین کو آنے جانے میں بڑی آسانی ہوتی ہے۔
یہ دروازہ ہجوم کو منظم اور نقل و حرکت کو رواں رکھنے میں اہم معاون ثابت ہوتا ہے۔
باب السلام کا ڈیزائن اور ساخت روایتی اسلامی فنِ تعمیر کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔
اس دروازے پر کی گئی باریک اور دیدہ زیب سنہری نقاشی اور فنکارانہ کام اس کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں، جس سے دیکھنے والوں کو اسلامی فنِ تعمیر کی باریکیوں اور خوبصورتی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔
باب السلام في المسجد النبوي.. تفاصيل معمارية تعكس جمال الفن الإسلامي.#واس_رمضان47 pic.twitter.com/KFVeG4PTs0
— واس جودة الحياة (@SPAqualitylife) March 10, 2026
یہ دروازہ اپنی الگ تعمیراتی شناخت رکھتا ہے جو نہ صرف اس مقام کی تقدیس میں اضافہ کرتا ہے بلکہ مسجد نبوی کے مجموعی جمالیاتی تاثر کو بھی ایک خاص اہمیت دیتا ہے، جس سے یہ جگہ اپنی تعمیراتی تاریخ کے حوالے سے بھی منفرد نظر آتی ہے۔
تکنیکی اعتبار سے یہ دروازہ مضبوطی اور پائیداری کا ایک بہترین نمونہ ہے، جس کی لمبائی تقریباً 6 میٹر، چوڑائی 3 میٹر اور موٹائی 13 سینٹی میٹر سے زائد ہے۔
باب السلام محض ایک گزرگاہ نہیں، بلکہ یہ مسجد نبوی کی تاریخ، روحانیت اور فنِ تعمیر کا ایک زندہ اور اہم حصہ ہے جو اپنی منفرد شناخت کے ساتھ آنے والوں کو اسلامی ثقافت کے شاندار ورثے کی یاد دلاتا ہے۔