امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی مشترکہ کارروائی ’آپریشن ایپک فیوری‘کے ابتدائی 10 روز کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
مزید پڑھیں
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اس خلاصے کے مطابق یہ آپریشن امریکی صدر کی خصوصی ہدایات پر شروع کیا گیا تھا۔
تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن کا بنیادی مقصد ایرانی سیکیورٹی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنا اور ان مقامات کو نشانہ بنانا تھا جو کسی بھی ممکنہ خطرے کا باعث بن سکتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق 10 دن کے دوران 5 ہزار سے زائد مقامات کو ہدف بنایا
گیا۔ ان حملوں میں ایران کے میزائل اور ڈرون تیار کرنے والے مراکز خصوصی طور پر ہدف تھے۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
علاوہ ازیں پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز، انٹیلی جنس مراکز اور فوجی قیادت کی عمارتوں کو بھی تباہ کیا گیا۔ اس وسیع آپریشن کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور ان کی عسکری تنصیبات کو غیر فعال کرنا تھا۔
Operation Epic Fury: The first 10 days pic.twitter.com/pGL1Scu4hG
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 9, 2026
سینٹکام کی رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران ایران کے فضائی دفاعی نظام، بیلسٹک میزائل اور ڈرون لانچ کرنے والے پلیٹ فارمز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسی طرح بحری محاذ پر کارروائی کرتے ہوئے ایران کی 50 سے زائد کشتیوں، آبدوزوں اور بحری یونٹس کو تباہ کیا گیا ہے۔
ان اہداف میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، جہاز شکن میزائلوں کے مقامات اور فوجی مواصلاتی تنصیبات بھی شامل ہیں، جنہیں آپریشن کے دوران ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
’آپریشن ایپک فیوری‘میں امریکی فضائیہ کے جدید ترین بی-ون، بی-ٹو اور بی-ففٹی ٹو بمبار طیاروں کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے لڑاکا طیارے، طیارہ بردار بحری جہاز اور تباہ کن بحری جہاز (ڈسٹرائرز) حصہ لے رہے ہیں۔
سینٹکام نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ آپریشن کے دوران ایسی خفیہ اور خاص فوجی صلاحیتوں کا استعمال بھی کیا گیا ہے جن کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔