کابینہ نے ایران کی جانب سے مملکت اور خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنی سلامتی، خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے تمام مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں
ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں خطے کی تازہ صورتحال اور علاقائی و عالمی سلامتی پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کابینہ اجلاس کے آغاز میں ولی عہد نے گزشتہ دنوں مختلف دوست اور برادر ممالک کے رہنماؤں سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے ارکان کو آگاہ کیا۔
کابینہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اجلاس میں سعودی فضائی دفاع کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے بتایا گیا کہ دشمن کے متعدد میزائل اور ڈرون کامیابی سے تباہ کیے گئے ہیں۔
وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے بتایا کہ کابینہ نے خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ تعاون اور یکجہتی کے سعودی کردار کا بھی جائزہ لیا اور ان علاقائی و بین الاقوامی اجلاسوں کو سراہا جن میں ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی۔
اجلاس میں ملکی امور سے متعلق کئی معاملات پر بھی غور کیا گیا، جن میں ترقیاتی منصوبوں، فلاحی سرگرمیوں کے فروغ اور قومی خدمات کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔
کابینہ نے 11 مارچ کو منائے جانے والے سعودی یومِ علم کو قومی تاریخ اور شناخت کی اہم علامت قرار دیا۔
کابینہ نے متعدد بین الاقوامی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی منظوری بھی دی، جن میں ملائیشیا کے ساتھ سیاسی مشاورت، سیاحت اور تربیت کے شعبوں میں تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔
علاوہ ازیں 2026 کو مصنوعی ذہانت کا سال قرار دینے اور رائل انسٹی ٹیوٹ آف اینتھروپولوجی و ثقافتی مطالعات کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔