عالمی مالیاتی منڈیاں ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہیں جہاں سرمایہ کار اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور ہیں۔
مزید پڑھیں
دنیا بھر میں سونے کی چمک مدھم پڑ رہی ہے اور بانڈز کی کشش ختم ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں ’کیش از کنگ‘کا فارمولا ایک بار پھر مقبول ہو رہا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق دنیا ایک ایسے معاشی ڈراؤنے خواب کی دہلیز پر ہے جہاں معاشی سست روی کے ساتھ ساتھ مہنگائی کا عفریت ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے۔
اقتصادی ڈراؤنا خواب
ایکسنیس (Exness) کے چیف مارکیٹ اسٹریٹیجسٹ وائل مکارم نے ’العربیۃ بزنس‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت اب ایک ایسے کٹھن مرحلے میں ہے جہاں اسے مہنگائی اور اقتصادی سست روی کا بیک وقت سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا ایک بدترین معاشی ڈراؤنے خواب کا سامنا کر رہی ہے۔
ماضی میں جب مہنگائی کی پہلی لہر آئی تو عالمی معیشت نے شدید کمزوری دکھائی، لیکن اب خدشہ یہ ہے کہ اگر سپلائی چین میں تعطل کی وجہ سے دوبارہ مہنگائی بڑھی تو اسے موجودہ سست رفتار معیشت کے لیے سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار فی الحال اپنی دولت کو اثاثوں کے بجائے نقد رقم (Liquidity) کی صورت میں رکھنا زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہیں۔
جاپانی بحران اور کرنسی مارکیٹ کا مستقبل
عالمی معیشت میں جاپان کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
جاپان اپنی توانائی کی ضروریات کا 95 فیصد درآمد کرتا ہے اور یہ درآمدات اکثر ایسے خطوں سے گزرتی ہیں جو آج کل جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی زد میں ہیں۔
وائل مکارم کے مطابق اگر سپلائی چین متاثر ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، تو جاپان کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی کیونکہ ان پر پہلے ہی قرضوں کا بھاری بوجھ ہے جس کی وجہ سے وہ شرح سود بڑھانے سے قاصر ہیں۔
کرنسی مارکیٹ میں وائل مکارم نے پیشگوئی کی ہے کہ اگر ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین (Yen) کی قیمت 159 کی سطح کو پار کر گئی، تو یہ مزید کمزور ہو کر 165 تک جا سکتا ہے۔
اسی طرح یورو (Euro) کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ 1.15 کے اہم تکنیکی لیول پر کھڑا ہے اور اگر تیل و گیس کی منڈی میں مزید ہنگامہ آرائی ہوئی تو یورپی کرنسی پر بھی دباؤ بڑھے گا۔
اسٹاک مارکیٹس کی گرتی ہوئی دیواریں
سرمایہ کاری کی دنیا میں اس وقت خوف کا عالم ہے۔ ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) انڈیکس اب تک 6 فیصد گر چکا ہے اور اگر مہنگائی کا خدشہ مزید بڑھا تو یہ دوبارہ اپنی پرانی بلندیوں یعنی 6120 کے لیول کو ٹیسٹ کرنے کے لیے نیچے جا سکتا ہے۔
نیس ڈیک (Nasdaq) کے بارے میں خدشہ ہے کہ یہ 22 ہزار پوائنٹس کی سطح تک گر سکتا ہے۔ جرمنی کا ڈیکس (DAX) انڈیکس بھی شدید دباؤ میں ہے۔ اگر معاشی حالات مزید بگڑے تو یہ 23 ہزار کی سطح توڑ کر 20 ہزار پوائنٹس تک گرنے کا خطرہ رکھتا ہے۔
وائل مکارم کے مطابق یہ مارکیٹیں فی الحال حساس سطحوں پر ہیں، اس لیے ’ڈپ خریدنے‘ (Buy the dip) کا ابھی مناسب وقت نہیں ہے۔
سونا، ڈالر اور سرمایہ کاروں کی حکمتِ عملی
سونے کے بارے میں وائل مکارم کا مؤقف ہے کہ اس وقت 5 ہزار ڈالر فی اونس کے قریب سطحوں پر خریداری کا مشورہ نہیں دیا جا سکتا۔
حالیہ دنوں میں سونے میں 300 ڈالر سے زائد کی گراوٹ بنیادی طور پر ’لیکویڈیٹی‘ کے مسائل کی وجہ سے ہے، کیونکہ جب اسٹاک مارکیٹیں گرتی ہیں تو سرمایہ کار فوراً اپنے منافع بخش اثاثے یعنی سونا بھی بیچ کر نقد رقم اکٹھی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں ڈالر کو سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ اب یہ توقع نہیں کر رہی کہ اس سال شرح سود میں بڑی کٹوتیاں ہوں گی، شاید جولائی میں ایک بار کمی کا امکان ہو۔