اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

ایران جنگ سے عالمی منڈیاں شدید متاثر، اسٹاک مارکیٹ میں مندی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے محض سرحدوں ہی کو نہیں، بلکہ عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیں

ایک ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی معاشی عدم استحکام سے نمٹنے کی کوشش کر رہی تھی، خطے میں جاری حالیہ تنازع نے خام تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے اور اسٹاک مارکیٹس کو بھی شدید مندی سے دوچار کردیا ہے۔

ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو دنیا توانائی کے بحران اور مہنگائی کی سنگین لہر کا سامنا کر سکتی ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں

تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

عالمی معیشت میں تیل کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور موجودہ کشیدگی کا سب سے براہِ راست اثر اسی شعبے پر پڑا ہے۔

اس بحران کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی تیل کی تجارت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے اور جہاں سے دنیا کا پانچواں حصہ (تقریباً 20 فی صد) تیل گزرتا ہے۔

اس وقت خام تیل (WTI) تقریباً 107 ڈالر اور برینٹ کروڈ 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے، جو کہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 15 فیصد زائد ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ اگر جنگ طویل ہوئی اور سپلائی چین متاثر ہوئی، تو قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی عبور کر سکتی ہیں۔

اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی

اس بحران نے ایشیا سے لے کر امریکہ اور یورپ تک کی اسٹاک مارکیٹس کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ سرمایہ کاروں میں پھیلی بے یقینی نے فروخت کے ایک بڑے رجحان کو جنم دیا ہے۔

جاپان، جنوبی کوریا، ہانگ کانگ، تائیوان اور چین کی مارکیٹوں میں بالترتیب 5.2، 6، 1.6، 4.4 اور 0.7 فیصد تنزلی دیکھی گئی۔ اسی طرح امریکی مارکیٹ (وال اسٹریٹ) بھی اس سے محفوظ نہ رہی، جہاں S&P 500، نیس ڈیک اور ڈاؤ جونز کے فیوچرز میں 1 فیصد سے زائد کی گراوٹ دیکھی گئی۔

اُدھر یورپ میں اسٹاکس 600 انڈیکس اپنے 2 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے، جبکہ فضائی کمپنیوں (لفتھانزا اور ایئر فرانس) کے حصص میں تقریباً 5 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے برعکس تازہ صورتحال میں دفاعی اور توانائی کی کمپنیوں، جیسے اٹلی کی ’لیونارڈو‘ کے حصص میں کچھ تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

کرنسی میں اتار چڑھاؤ

ڈالر کی بڑھتی قدر نے بھی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین 158.46 کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ مصر جیسے ممالک کی معیشت پر بھی گہرا اثر پڑا ہے جہاں ڈالر کے مقابلے میں مصری پاؤنڈ کی قیمت گر کر 53 پاؤنڈ کے قریب پہنچ گئی ہے ۔

شرح سود اور بانڈ مارکیٹ

بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر عالمی بانڈ مارکیٹ میں بھی ہلچل ہے، جہاں آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کے سرکاری بانڈز پر منافع (Yields) میں اضافہ ہوا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ سرمایہ کار اب امریکی فیڈرل ریزرو سے جون میں متوقع شرح سود میں کمی کی امید چھوڑ چکے ہیں اور اب اس کا امکان ستمبر تک موخر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ

معاشی ماہرین اس صورتحال کو عالمی نمو کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

 K2 Asset Management کے ریسرچ ہیڈ جارج بوبوراس کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ جنگ کے دورانیے سے متعلق پھیلی غیر یقینی کا نتیجہ ہے، جو طویل مدتی معاشی نمو کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔