اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

ایران اسرائیل تنازع: سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور فیک نیوز کا طوفان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اسرائیل و امریکہ کے ایران پر حملوں کے جواب میں تہران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال نے ایک نئی قسم کی جنگ کو جنم دیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق یہ جنگ صرف زمین پر نہیں، بلکہ سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل محاذ پر بھی پوری شدت کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔

گزشتہ ماہ کے آخر سے شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران، انٹرنیٹ پر گمراہ کن ویڈیوز اور جھوٹی خبروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد عوام کی اپنے اپنے مفادات کے مطابق  ذہن سازی کرنا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں

بحرین کی عمارت کامعاملہ: اے آئی کا منفی استعمال

پروپیگنڈا مہم کی ایک واضح مثال وہ ویڈیو ہے جو چند روز قبل سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔

اس ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک بلند و بالا عمارت میں دھماکوں کے بعد دھواں اور ملبہ گر رہا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ بحرین کی ایک نجی عمارت ہے جس پر ایرانی حملہ ہوا ہے۔

تاہم تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ ویڈیو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ویڈیو کو ان اکاؤنٹس نے پھیلایا جو براہِ راست ایرانی حکومت سے منسلک سمجھے جاتے ہیں، تاکہ اپنی عسکری کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا سکے۔

ماہرین کی نظر میں: سوشل میڈیا ایک میدانِ جنگ

انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں معلومات کے امور کی ڈائریکٹر، یلانی اسمتھ کے مطابق سرکاری سطح پر تیار کیا جانے والا مواد دراصل ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے تاکہ ایک خاص بیانیہ تشکیل دیا جا سکے۔

اسی طرح اٹلانٹک کونسل کے ڈیجیٹل لیب کے اسٹریٹجی ڈائریکٹر ایمرسن بروکنگ کا کہنا ہے کہ آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میدانِ جنگ بن چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آپ سوشل میڈیا صارف ہیں، تو آپ کو سمجھنا چاہیے کہ آپ ایک عالمی جنگ کے میدان کا حصہ ہیں۔ فریقین آپ کو متاثر کرنے کے لیے غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

معلومات کا فقدان اور سنسر شپ

یوکرین۔روس یا اسرائیل۔حماس جنگ کے برعکس موجودہ صورتحال میں ایک بڑی رکاوٹ ایران کے اندر سے معلومات کا نہ ملنا ہے۔

حکومتی سطح پر انٹرنیٹ کی بندش اور سخت سنسر شپ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس وجہ سے آزادانہ ذرائع سے حقائق تک رسائی ناممکن ہو گئی ہے اور کسی بھی جانب سے پھیلایا گیا پروپیگنڈا بغیر تصدیق کے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی سرکاری میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر موجود حامی اکاؤنٹس مسلسل تباہی اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں مبالغہ آرائی کر رہے ہیں۔

لائیک، شیئر کی بھوک اور فیک نیوز

اس افراتفری میں صرف سرکاری یا منظم گروہ ہی ملوث نہیں، بلکہ عام صارفین نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ’ویوز‘ اور ’لائیکس‘ کی بھوک میں مبتلا افراد، جو کسی ریاست سے منسلک نہیں، پرانی ویڈیوز کو نیا بنا کر، ویڈیو گیمز کے کلپس کو اصلی جنگی فوٹیج بتا کر اور اے آئی سے تیار کردہ جھوٹا مواد پھیلا رہے ہیں۔

اس رجحان نے ڈیجیٹل ماحول کو اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا عام صارف کے لیے ناممکن ہو چکا ہے۔

ایکس (X) کا سخت ردعمل

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس نے ایک اہم اعلان کیا ہے۔

پلیٹ فارم نے کہا ہے کہ اگر کوئی صارف جنگی علاقے سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ مواد بغیر واضح وضاحت کے شیئر کرے گا، تو اس کی آمدنی میں حصے داری معطل کر دی جائے گی۔

پہلی بار خلاف ورزی پر 90 دن کے لیے معطلی ہوگی اور دوبارہ ایسا کرنے پر اس اکاؤنٹ کی آمدنی مستقل طور پر بند کر دی جائے گی۔