اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

سردیوں میں ڈی ہائیڈریشن صحت کو کیسے نقصان پہنچاتا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

ماہرینِ صحت اُس کیفیت سے خبردار کر رہے ہیں جسے ’موسمیاتی ڈی ہائیڈریشن‘ کہا جاتا ہے۔ 

یہ ایک خاموش طبی خطرہ ہے جو سردیوں میں بھی انسان کو لاحق ہو سکتا ہے حالانکہ عام طور پر ڈی ہائیڈریشن کو گرمیوں اور زیادہ درجۂ حرارت سے جوڑا جاتا ہے۔
طبی ویب سائٹ Onlymyhealth پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سردیوں میں ڈی ہائیڈریشن زیادہ عام ہو سکتی ہے کیونکہ اس موسم میں پیاس محسوس ہونے کے قدرتی محرکات کم ہو جاتے ہیں جس کے باعث بہت سے افراد اپنے جسم کی حقیقی پانی کی ضرورت کو محسوس نہیں کر پاتے۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق ماہرین بتاتے ہیں کہ سردیوں میں جسم سانس کے ذریعے، پیشاب کے ذریعے اور ہیٹنگ آلات سے پیدا ہونے والی خشک ہوا کے باعث بھی پانی کھوتا رہتا ہے۔ 

اس کے برعکس، ٹھنڈے موسم میں پیاس کا احساس کمزور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کو فوری طور پر سیال مادّوں کی ضرورت کا ادراک نہیں ہوتا۔

ماہرین نے کہا ہے کہ بھاری لباس پہننا، جسمانی سرگرمی اور حرکت میں کمی بھی لاشعوری طور پر ڈی ہائیڈریشن کے مسئلے کو بڑھا دیتی ہے جس سے تھکن، سر درد اور جلد کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

علامات کیا ہیں؟

ڈی ہائیڈریشن کی علامات عموماً ہلکی نوعیت کی ہوتی ہیں، اسی لیے بہت سے لوگ انہیں عام سردیوں کی تھکن یا نقاہت سمجھ لیتے ہیں۔ 

ان علامات میں شامل ہیں:

ہونٹوں کا خشک اور پھٹ جانا

جلد کا خشک اور بے رونق ہونا

مسلسل یا بار بار ہونے والا سر درد

پیشاب کا رنگ گہرا ہونا

2132313123

ڈاکٹر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پیاس محسوس نہ ہونے کے باوجود باقاعدگی سے پانی پینا ضروری ہے کیونکہ یہی ڈی ہائیڈریشن اور اس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ کا بنیادی ذریعہ ہے۔

پانی کا استعمال

سردیوں میں پانی کی کمی سے بچاؤ کا عملی لائحۂ عمل:

سرد موسم میں جسم میں سیال مادّوں کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ماہرین محفوظ ’ہائیڈریشن تکنیک‘ اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں، جس میں چند عملی اقدامات شامل ہیں، مثلاً:

گرم آغاز:
صبح کے وقت ایک گلاس نیم گرم پانی پینا تاکہ نظامِ ہاضمہ متحرک ہو اور جسم کو ابتدا ہی سے نمی ملے۔

تھوڑی تھوڑی مقدار کا اصول:
دن بھر میں وقفے وقفے سے تھوڑی مقدار میں پانی پینا، بجائے اس کے کہ ایک ہی وقت میں زیادہ مقدار پی لی جائے۔

21132213213

سوپ، جڑی بوٹیوں والی چائے اور نیم گرم لیموں پانی جیسے گرم مشروبات کا استعمال، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو سردیوں میں ٹھنڈا پانی پینا پسند نہیں کرتے۔

کیفین سے بھرپور مشروبات، جیسے کافی اور چائے، جسم سے مزید پانی کے اخراج کا سبب بن سکتے ہیں۔ 

ماہرین ان مشروبات کے شوقین افراد کو عملی مشورہ دیتے ہیں کہ ہر کیفین والے مشروب کے ایک کپ کے مقابلے میں ایک کپ پانی ضرور پیا جائے تاکہ سیال مادّوں کا توازن برقرار رہے۔
روزمرہ غذا میں پانی سے بھرپور موسمی پھلوں اور سبزیوں کو شامل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ توانائی کی سطح برقرار رکھنے، پٹھوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور جسم پر سردیوں کے ڈی ہائیڈریشن کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔