ڈاکٹر بشریٰ تسنیم
شارجہ
مایوسی انسان کو کمزور اور پست ہمت بنا دیتی ہے، اور اس کے دل میں انتقام، حسد اور تکبر کو جنم دیتی ہے۔
اپنی ذات کا عرفان، یعنی اپنی طاقت، مقام اور کمزوریوں کا شعور، انسان کو اس مقام سے گرنے اور مایوسی کے اندھیروں میں کھو جانے سے بچاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ضمیر، انبیاء کی رہنمائی اور حق و باطل کی پہچان دی تاکہ وہ دشمن، یعنی شیطان، کی چالوں سے باخبر رہے۔
شیطان یا ابلیس کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مایوسی، حسد اور تکبر کس طرح انسان کو اللہ کی رضا سے دور کر دیتا ہے۔
ابلیس کی دشمنی انسانی نفس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتی ہے تاکہ انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، اور مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ شیطان کی چالوں سے ہوشیار رہے۔
مایوسی اللہ کی رحمت سے کفر ہے۔ ایک مومن کے لیے ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلائی کی امید موجود رہتی ہے۔ مومن اعتدال اور متوازن شخصیت کے حامل رہتا ہے، نہ مایوس ہوتا ہے نہ متکبر۔ آج کے معاشرے میں ہر سطح پر مایوسی پھیلی ہوئی ہے، لیکن مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ امید، نیکی اور ایمان کی روشنی قائم رکھے۔
رمضان المبارک ہمیں اس تربیتی مشق کی یاد دلاتا ہے:
روزہ، تراویح، سحری اور افطاری کے انتظامات، نماز اور قرآن کی تلاوت، سب اللہ کی رضا کے لیے ہیں۔
ہر نیکی، چاہے وہ معمولی ہو، شیطان کے لیے رنج کا سبب بنتی ہے اور دل میں خوشی پیدا کرتی ہے۔
مومن اپنی نیکی سے تسکین محسوس کرتا ہے، اور اس عمل سے دشمن کو شکست ملتی ہے۔
شیطان کی چالوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اعمال، افکار اور دل کی حفاظت کریں، اور ہر عمل کو اللہ کی خوشنودی کے لیے کریں۔
چھوٹے چھوٹے نیک اعمال جمع ہو کر بڑی کامیابی اور اجر کا سبب بنتے ہیں۔
رمضان المبارک کی عبادات، چاند کا انتظار، سحری و افطاری کی تیاری، دل میں خوشی اور اطمینان پیدا کرتی ہیں، اور ایمان کی تازگی شیطان کو ناکام بناتی ہے۔
روزہ ہمیں تقویٰ سکھاتا ہے، یعنی اپنی ذات اور اعمال کی حفاظت کرنا اور اللہ کی رضا کی طرف رہنمائی حاصل کرنا۔
امید مومن کو اللہ کی رحمت کی جانب رہنمائی دیتی ہے۔
ہر نیکی، عبادت اور عمل، چاہے معمولی ہو، اللہ کی نظر میں قیمتی ہے اور اجر کا سبب بنتا ہے۔
رمضان المبارک میں ہر فرد کو چاہئے کہ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی نیکیاں جمع کرے، دل میں خوشی اور تسکین محسوس کرے اور شیطان کو مایوس کرے۔
اپنی نیکی کے ہر عمل کو شعوری ادراک کے ساتھ انجام دینا اور اللہ کی رضا کے لیے کرنا ہماری روحانی فلاح اور اجتماعی فلاح کا باعث بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! جو اپنی جان پر زیادتی کر بیٹھے ہیں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ غفور الرحیم ہے۔
رمضان ہمیں امید، ایمان اور نیکی کی روشنی دیتا ہے تاکہ ہم نہ صرف اپنی بلکہ اپنی قوم کی فلاح کے لیے بھی روشنی کا باعث بنیں۔