ایران میں جاری جنگ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے طویل المدتی خطرہ بن رہی ہے کیونکہ متاثرہ تنصیبات، لاجسٹک مسائل اور بڑھتے ہوئے شپنگ خطرات سپلائی کو متاثر کر رہے ہیں، چاہے فوجی سطح پر تنازع جلد ختم ہی کیوں نہ ہو جائے، یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے اور امریکی صدر ٹرمپ کے لیے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی دباؤ بھی بڑھا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اب صرف جغرافیائی سیاسی خدشات نہیں بلکہ عملی آپریشنل رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ ریفائنریوں کی بندش اور برآمدی پابندیوں نے سپلائی کے بہاؤ کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس تنازع کے باعث عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچواں حصہ سپلائی متاثر ہو چکی ہے جبکہ آبنائے ہرمز
میں کشیدگی نے جہاز رانی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے عالمی تیل کی قیمتوں میں 24 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جو COVID-19 کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کویت، سعودی عرب، امارات اور عراق کو تقریباً 140 ملین بیرل تیل عالمی ریفائنریوں کو بھیجنے سے عارضی طور پر روکنا پڑا۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹس کے لیے کلک کریں
ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ ختم ہو جائے تو بھی پیداوار اور سپلائی کو معمول پر آنے میں ہفتوں یا مہینوں لگ سکتے ہیں۔
اسی دوران ایرانی حملوں کے باعث توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ قطر نے ڈرون حملوں کے بعد گیس برآمدات پر فورس میجر کا اعلان کیا ہے اور معمول کی پیداوار بحال ہونے میں کم از کم ایک ماہ لگ سکتا ہے۔
توانائی کی سپلائی میں خلل ایشیائی معیشتوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
انڈیا، چین، تھائی لینڈ اور ویٹنام میں ریفائنریوں نے پیداوار کم یا برآمدات معطل کر دی ہیں جبکہ اس صورتحال سے روس کو فائدہ ہوا ہے کیونکہ روسی خام تیل کی طلب اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔