اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

تیل منڈیاں ہل گئیں، قیمت 90 ڈالر سے اوپر، کئی ممالک متاثر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

ایران میں جاری جنگ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے طویل المدتی خطرہ بن رہی ہے کیونکہ متاثرہ تنصیبات، لاجسٹک مسائل اور بڑھتے ہوئے شپنگ خطرات سپلائی کو متاثر کر رہے ہیں، چاہے فوجی سطح پر تنازع جلد ختم ہی کیوں نہ ہو جائے، یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے اور امریکی صدر ٹرمپ کے لیے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی دباؤ بھی بڑھا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اب صرف جغرافیائی سیاسی خدشات نہیں بلکہ عملی آپریشنل رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ ریفائنریوں کی بندش اور برآمدی پابندیوں نے سپلائی کے بہاؤ کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ 

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس تنازع کے باعث عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچواں حصہ سپلائی متاثر ہو چکی ہے جبکہ آبنائے ہرمز

 میں کشیدگی نے جہاز رانی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے عالمی تیل کی قیمتوں میں 24 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جو COVID-19 کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔ 

environmental protection concept with man turning 2026 01 11 08 43 54 utc

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کویت، سعودی عرب، امارات اور عراق کو تقریباً 140 ملین بیرل تیل عالمی ریفائنریوں کو بھیجنے سے عارضی طور پر روکنا پڑا۔

ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹس کے لیے کلک کریں

ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ ختم ہو جائے تو بھی پیداوار اور سپلائی کو معمول پر آنے میں ہفتوں یا مہینوں لگ سکتے ہیں۔ 

اسی دوران ایرانی حملوں کے باعث توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ قطر نے ڈرون حملوں کے بعد گیس برآمدات پر فورس میجر کا اعلان کیا ہے اور معمول کی پیداوار بحال ہونے میں کم از کم ایک ماہ لگ سکتا ہے۔

collage of photos of oil extraction at sunset 2026 01 09 07 44 03 utc

توانائی کی سپلائی میں خلل ایشیائی معیشتوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

انڈیا، چین، تھائی لینڈ اور ویٹنام میں ریفائنریوں نے پیداوار کم یا برآمدات معطل کر دی ہیں جبکہ اس صورتحال سے روس کو فائدہ ہوا ہے کیونکہ روسی خام تیل کی طلب اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔