اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

دیمونا ری ایکٹر پر حملہ ہوا تو کیا ہوگا؟ پورا خطہ تابکاری کی زد میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

ایران کی جانب سے اسرائیل کے دیمونا جوہری ری ایکٹر پر حملے کی دھمکی نے خطے میں شدید تشویش اور خدشات کو جنم دے دیا ہے کیونکہ کسی بھی جوہری تنصیب کو نشانہ بنانا ماحولیاتی اور انسانی سطح پر سنگین اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

ماہرین کے مطابق ایسی کسی کارروائی کے نتائج روایتی فوجی تصادم سے کہیں آگے جا سکتے ہیں اور اس سے تابکار آلودگی کے پھیلاؤ اور اس کے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر ممکنہ اثرات کے بارے میں سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ خدشات اس وقت سامنے آئے جب ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے، جس کے بیانات خبر رساں اداروں ایسنا اور

 رائٹرز نے نقل کیے، دھمکی دی کہ اگر امریکہ اور اسرائیل ’مسلح افراتفری‘ کے ذریعے ایرانی نظام کو گرانے کی کوشش کریں گے تو دیمونا ری ایکٹر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں

اسرائیل کے جنوبی علاقے صحرائے نقب میں واقع دیمونا ری ایکٹر خطے کی حساس ترین جوہری تنصیبات میں شمار ہوتا ہے۔ 

54564564 1

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسرائیل کے جوہری پروگرام کی بنیادی ستون ہے، جبکہ تل ابیب کئی دہائیوں سے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ابہام کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔

جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کے خطرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جوہری تنصیب پر براہِ راست حملہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے تک محدود نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اس کے اثرات نشانہ بننے والے ملک سے باہر بھی پھیل سکتے ہیں۔ 

6544564
فوٹو: سبق

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے حملے کے نتیجے میں تابکار مواد ماحول میں خارج ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے جو پڑوسی ممالک تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

اگر تابکار اخراج ہو جائے تو اس کے ذرات ہوا، مٹی یا پانی کے ذریعے پھیل سکتے ہیں۔ 

اسی وجہ سے جوہری حادثات کو دنیا کی پیچیدہ ترین ماحولیاتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ ان کے اثرات انسان اور ماحول دونوں پر طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔ 

اس کی بڑی مثال یوکرین میں چرنوبل جوہری ری ایکٹر کا سانحہ ہے۔

کیا سعودی عرب متاثر ہو سکتا ہے؟

اگرچہ بعض حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تابکار آلودگی خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے، تاہم جوہری سلامتی اور ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ممکنہ حالات میں سعودی عرب تک اس کے براہِ راست اثرات پہنچنے کا امکان بہت کم ہے۔

456456 1

ماہرین کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ دیمونا ری ایکٹر اور سعودی عرب کے درمیان کافی جغرافیائی فاصلہ ہے، جو کسی بھی ممکنہ اثرات کو محدود کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ 

اس کے علاوہ خطے میں عمومی طور پر چلنے والی ہواؤں کی سمتیں زیادہ تر فضائی دباؤ کو خلیجی خطے سے دور لے جاتی ہیں۔

مزید یہ کہ تابکار مواد کے فضائی پھیلاؤ کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ حادثے کے مقام سے دور جانے کے ساتھ ساتھ اس کی شدت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے، جس سے دور دراز علاقوں میں اس کے اثرات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔

56446
فوٹو: سبق

اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کا تابکار اخراج بھی ہو جائے تو اس کے ماحولیاتی اثرات زیادہ تر اس جوہری تنصیب کے قریبی جغرافیائی علاقے تک محدود رہنے کا امکان ہے، جبکہ سعودی عرب جیسے دور کے ممالک پر اس کے اثرات محدود یا بالواسطہ ہو سکتے ہیں۔