اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

نیک اعمال کی قبولیت کی شرط، رزق حلال

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

فرخندہ شاہد

ریاض

ہماری زندگی میں رزق حلال کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
وہ اس لئے کہ اس پر ہماری عبادات کا دار و مدار ہے۔ اس پر دعاؤں کی قبولت کا انحصار ہے اور اسی سے اجر و ثواب اور نیکیوں کا تعلق ہے اور اگر یہ ضائع ہو جائیں تو ہماری عبادات بے مقصد، ہماری دعائیں رائیگاں اور ہماری جو ریاضتیں اور کو ششیں ہیں وہ بے ثمر ہوں گی۔

 اس لئے اس موضوع کو بہت سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا دین اسلام در اصل ایک مکمل اور جامع دین ہے۔ اس میں ایمان اور عقائد کی بات بھی ہے، اعمال کی بات بھی ہے اور اخلاقیات کی بات بھی کہی گئی ہے اور حرام اور حلال کا مسئلہ بڑی اہمیت کے ساتھ قرآن مجید میں اور احادیث نبوی میں کئی جگہ بار بار پیش کیا گیا اور اس موضوع پر جید علمائے کرام نے بہت کچھ بیان فرمایا ہے۔

مزید پڑھیں

قرآن کی تفاسیر میں جگہ جگہ حرام اور حلال کی نشان دہی کی گئی ہے اور احادیث کی کتابوں میں بھی ہمیں حلال اور حرام مں تمیز سکھائی گئی ہے۔ 

ہم یہ سب پڑھتے بھی ہیں اور علمائے کرام کے درس بھی سنتے ہیں۔
آج ہم نے یہ جاننا ہے کہ اللہ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں جو سنت دی ہے، کیا ہم نے اُسے اپنی زندگی میں اپنایا ہے؟

 یا اس پر ہم کسی حد تک عمل کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ہم انسانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ ہمیں انواع و اقسام کے کھانے دیئے جن سے ہم اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ انکی لذتوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن اگر وہی رزق حلال ہو تو بہترین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بار بار حلال کی تاکید اور حرام سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
سورہ نحل کی آیت نمبر 114 میں اللہ فرماتا ہے:
جو کچھ حلال اور پاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔

اسی طرح سورہ البقرہ کی آیت نمبر 168 میں اللہ نے حکم دیا ہے:
 اے لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چزبیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راہ پر نہ چلو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

32131

رزق اور شیطان

کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ حلال کے مسئلے میں شیطان کا ذکر کیو ہے ؟ 

کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے شیطان آسانی سے انسان پر مسلط ہوتا ہے۔ 

اکثر ہم حلال کمانے کے لئے اتنی مشکل اور پریشانی سے گزر رہے ہوتے ہیں اور پھر بھی گزارا نہیں ہوتا تو پھر شیطان ہمیں مختلف راستے دکھاتا ہے کہ یہ راستہ اختیار کرلو اِس میں بڑی سہو لت ہے، زیادہ پسے مل جائیں گے چاہے وہ دھوکہ دہی کے ذریعے ہو یا کسی اور ناجائز طریقے سے ہو ،کیونکہ شیطان غلط راستے کو پُرکشش بنا کر پیش کرتا ہے اور جو لوگ شیطان کے دھوکے میں آجاتے ہیں وہ حلال اور حرام کی تمیز چھوڑ بیٹھتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے، بھلا دشمن سے کوئی بھلائی کی توقع کر سکتا ہے؟

ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو جو چزیں حرام ہیں تو کیا ایک مسلمان اس میں جا سکتا ہے؟ 

غور کرنے کی بات ہے کہ حلال اور حرام کا مسئلہ اتنی اہمیت کے ساتھ قرآن مجید اور احادیث نبویؐ میں کیوں پیش کیا گیا ہے؟

حرام اور حلال کی تمیز دوسری قوموں اور مسلمانوں کے درمیان بنیا دی فرق ہے۔ اس کے برعکس ہم میں سے اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ دوسری قوموں نے اس لئے ترقی کی کہ انہوں نے اس تمیز کو چھوڑ دیا۔

دعائیں کیوں رد ہوتی ہیں؟

آج کے دور میں اگر ہمیں حلال اور حرام میں تمیز کی سمجھ  آجائے تو ہماری دنیا اور آخرت سنور جائیں گے۔ 

صحیح مسلم کی حدیث مبارک ہے:

ایک انسان مشکلات میں گھرا ہوا ہے، اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہے لیکن اس کی دعا رد کر دی  جاتی ہے کیونکہ اس کا کھانا حرام، اُس کا پینا حرام، اُس کا لباس  حرام اور اُس کا جسم حرام  کا بنا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کیسے قبول فرمائے گا۔

132312132

ہمیں سوچنا چاہئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی دعائیں کریں اور وہ اللہ کی طرف سے رد کر دی جائیں۔ 

اس بات پر غور کرنا چاہے کہ ہمارے ذرائع آمدن حلال ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو ہمارا کھانا، پینا، پہننا اور اوڑھنا سب حرام ہے۔ 

آج ہم مال کی محبت میں اللہ اور اسکے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے احکامات کو بھول گئے ہیں۔ 

عجیب بات ہے کہ یہ امت حرام چیزوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔  

لوگ حرام چزاوں کو بہانوں سے، ناموں کی تبدیلی سے جائز  قرار دے رہے ہیں۔  

آج ہم دیکھ  رہے ہیں کہ جو چیز  سود تھی اس کا نام  بدل کر منافع رکھ دیا گیا ہے۔کیا کسی چیز کا نام بدلنے  سے وہ حلال ہو جاتی ہے؟ آج کل یہی ہو رہا ہے۔

لائف اسٹائل کا بہانا

 

ہم اپنی زندگی اوسط سے زیادہ اچھی جینے کے لئے سود لے رہے ہیں۔ ہم ایسا رہن سہن، ایسا لباس اپنانے ہوئے ہیں جو ہماری دسترس سے باہر ہوتے ہیں اور یہ سب حاصل کرنے کے لئے سود اور رشوت کو ذریعہ بناتے ہیں اور جس کو آج کل ہم اچھا لائف اسٹائل کہتے ہیں، وہ حاصل کرنے کے لئے غلط کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

بد دیانتی اور دھوکہ دہی ہمارے ہر کام میں شامل ہوگئی ہے۔

آج کل ہماری اکثر تجارتیں، خرید و فروخت دھوکہ دہی پر مبنی ہیں۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ عام ہے۔ ناقص مال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے مہنگے داموں بچنا عام ہے۔ اصل اور نقل کی تمیز مشکل ہوگئی ہے۔ 

سورہ مومنون کی آیت نمبر 51 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں:

اے پغمبر ( صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔

یعنی حلال کے ساتھ ہی عمل صالح  قبول ہوں گے۔ اگر آپ کا رزق حلال ہے تب ہی آپ کے نیک اعمال قبول ہوں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمام  پغمبروں کو حلال کے ساتھ عمل صالح کی تاکید کی ہے لیکن آج کے دور کا مسلمان  ہر جائز  اور نا جائز طریقے سے کماتے ہوئے مال کو حلال کرنے کی کوشش میں کثرت سے حج اور عمرے کرنے میں لگا ہوا ہے۔

 

آج ہم اپنا مال صاف کرنے کے لئے خیرات، زکات اور مختلف نیکی کے کاموں میں پسہ خرچ کرتے رہتے ہیں اور خود کو مطمئن کرتے ہیں کہ اس طرح ہمارا کمایا ہوا مال پاک اور حلال ہوجائے گا۔ 

نمازوں کے ڈھیر ہوں، نوافل کے انبار ہوں لیکن اگر آپ کی ہر چیز حرام کی ہو تو کچھ قبول نہیں ہوتا۔ 

حرام کمانے والا شخص اگر اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو اللہ کو قبول نہیں ہوگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کا مفہوم ہے:

حلال کیا ہے؟ یہ بالکل واضح ہے، حرام کیا ہے؟ یہ بھی بالکل واضح ہے، ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ حلال ہیں کہ حرام۔
فرمایا: یہ مشتبہات ہیں، ان سے بچو کہ اگر کسی چیز سے تمہارے دل میں کھٹکا پیدا ہوجائے اسے چھوڑ دو اور اُس کو اختیار کر لو جس سے دل میں کوئی تشویش پیدا نہ ہو۔(بخاری و مسلم)

 

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے