مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ عالمی سیمی کنڈکٹر کی صنعت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
جنوبی کوریا کی حکمراں جماعت کے رکنِ پارلیمان کم یونگ بائے نے جمعرات کے روز خبردار کیا کہ اس تنازع کے باعث چپس بنانے کے لیے ضروری مواد کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کی چپ صنعت، جو دنیا میں استعمال ہونے والی میموری چپس کا تقریباً دو تہائی حصہ فراہم کرتی ہے، جنگ کے ممکنہ اثرات پر شدید تشویش کا سامنا کررہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صورت حال کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور بعض اہم خام مواد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جو چپ سازی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے، باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
یہ بیان انہوں نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور صنعتی گروپوں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس کے بعد دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ سے بعض بنیادی مواد کی فراہمی میں تعطل پیدا ہو گیا تو پیداوار رکنے کا بھی امکان ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے ہیلیم گیس کا ذکر کیا جو سیمی کنڈکٹر بنانے کے دوران درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے اور ٹھنڈا رکھنے کے عمل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
ہیلیم کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال اس کا مؤثر متبادل دستیاب نہیں اور اس کی پیداوار چند ہی ممالک میں ہوتی ہے۔ قطر اس گیس کے بڑے عالمی پیدا کنندگان میں شامل ہے، جس کے باعث خطے میں کسی بھی خلل کے عالمی سپلائی چین پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چپ بنانے والی کمپنیوں کو پہلے ہی سپلائی چین میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک چپس کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث صنعت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال نے اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور گاڑیوں جیسے دیگر شعبوں کے لیے دستیاب چپس کی فراہمی کو بھی محدود کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی کمپنی SK Hynix نے کہا ہے کہ اس کے پاس ہیلیم کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور اس کی سپلائی چین متنوع ہے، لہٰذا آپریشن متاثر ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
دوسری جانب سام سنگ الیکٹرانکس نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دنیا کی سب سے بڑی چپ بنانے والی کمپنی تائیوان کی TSMC نے بھی کہا ہے کہ موجودہ وقت میں اسے بڑے اثرات کی توقع نہیں، تاہم وہ صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسی طرح امریکی کمپنی GlobalFoundries نے بتایا کہ وہ خطے میں موجود سپلائرز اور صارفین کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے اور کسی بھی ممکنہ رکاوٹ سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں جنوبی کوریا کی وزارت صنعت نے بتایا کہ ملک سیمی کنڈکٹر صنعت کی سپلائی چین میں شامل مزید 14 اہم مواد کے لیے بھی مشرقِ وسطیٰ پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔ ان میں برومین اور چپ معائنہ کرنے والے آلات بھی شامل ہیں، تاہم ان میں سے کئی مواد مقامی سطح پر یا متبادل عالمی منڈیوں سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بحران طویل ہو گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں عالمی سطح پر چپس کی طلب پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اسی تناظر میں کمپنی Amazon نے پیر کو بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں اس کے بعض ڈیٹا سینٹرز ڈرون حملوں سے متاثر ہوئے ہیں، جس کے بعد خطے میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توسیعی منصوبہ بندی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں مائیکروسافٹ اور این ویڈیا متحدہ عرب امارات کو مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ کا علاقائی مرکز بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔
یہ ڈیٹا سینٹرز جدید ڈیجیٹل خدمات، خصوصاً ذہین چیٹ سسٹمز اور دیگر اے آئی ایپلی کیشنز کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ تمام خدشات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔